|
خریدی گئی تھیں
دکان کے مالک دنیش اگروال اور اس کے
بیٹے کو حراست میں لے کر سخت پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ اس سے قبل پولیس
نے پوچھ گچھ کے لئے دس افراد کو گرفتار کیا تھا
تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ یہ ٹائم بم
تھے، جو ملک میں ہی تیار کئے گئے تھے۔ چار بم دھماکوں کے علاوہ
پولیس نے قبرستان سے پائے گئے دو بموں کو ناکارہ بھی کیا
مالیگاوں میں جمعہ کے دھماکوں
اور ہلاکتوں کے بعد حالات اب تک معمول پر نہیں آسکے ہیں۔آئی جی پولیس
پریم کشن جین نے بتایا کہ ان کی قیادت میں پولیس افسران کی ایک بیس
رکنی ٹیم ان دھماکوں کی تحقیقات کررہی ہے۔ آئی جی پولیس نے ایسی
میڈیا رپورٹوں کی تصدیق نہیں کی کہ ان دھماکوں میں آر ڈی ایکس کا
استعمال کیا گیا تھا
تاہم ایک پریس کانفرنس کے دوران
پریم کشن جین نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ دھماکوں کی شدت کافی زیادہ
تھی۔ انہوں نے بتایا کہ جائے وقوع سے حاصل کیے جانے والے مواد ممبئی
اور پونے کی لیبارٹریز میں جانچ کے لیے بھیجے گئے ہیں
پاور لوم صنعت کے لئے مشہور
مالیگاوں میں جمعہ کی دوپہر ہونے والے چار بم دھماکوں میں 65افراد
ہلاک اور سو سے زائد کے زخمی ہوئے تھے جن میں سے کئی شدید زخمی افراد
اب بھی ہسپتال میں طبی امداد لے رہے ہیں
اب تک کی تحقیقات سے پولس اس نتیجے
پہنچی ہے کہ بم دو سائیکلوں پر نصب کئے تھے۔ جس سائیکل پر بم نصب کیا
گیا تھا اس کے مالک دنیش اگروال کے بیٹے پرتیوش اگروال، سیلز مین
سہیل اور فٹر مبین کوتحقیقات کے لئے تھانہ میںطلب کیاگیا ہے
پولیس کے مطابق سہیل نے بتایا ہے کہ
حملے سے ایک دن قبل دو لوگ آئے تھے اور انہوں نے دو سائیکلیں خریدیں
۔
علاقے میں فاران اسپتال کے ڈاکٹر انتخاب فارانی نے بتایا ہے کہ
اسپتال میں اب بھی 58 شدید زخمی افراد موجود ہیں جنہیں یا تو شدید
چوٹیں آئی ہیں یا جسم کا کوئی حصہ ضائع ہوگیا ہے۔ ان میں 25 بچے شامل
ہیں
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کئی کے
جسموں میں چھرے گھس گئے ہیں جن سے انفکشن پھیلنے کا خطرہ ہے۔شہر میں
پولیس کی موجودگی برقرار ہے اور آئی جی پولیس پی کے جین نے علاقے کا
دورہ کیا ہے اور لوگوں سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ امکان ہے کہ ابتدائی
تفتیش کے بعد ہی گرفتاریاں عمل میں آسکیں گی
کسی تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمہ
داری قبول نہیں کی ہے۔ لیکن آئی جی پولیس نے بتایا کہ سی آئی ڈی کی
ایک ٹیم مراٹھی اخبار دِنکر کے دفتر میں کچھ پوچھ گچھ کررہی ہے کیوں
کہ پانچ ستمبر کو کسی نے دِنکر کے دفتر فون کرکے ان دھماکوں کی
وارننگ دی تھی
پی کے جین نے یہ بھی بتایا کہ
مالیگاوں دھماکوں کے بعد بھی اس اخبار کو ایک نامعلوم شخص کی جانب سے
فون کیا گیا ہے جس میں وارننگ دی گئی ہے کہ ہندو علاقوں میں بھی
دھماکے کیے جائیں گے
مالیگاوں کے بیشتر لوگوں کے روز گار
کا انحصار پاور لوم فیکٹری کے خام مال کی فروخت پر ہے۔ تاہم کاروباری
سرگرمیاں اب تک معمول پر نہیں آسکی ہیں۔ یہ خام مال عموماً گجرات سے
آنے والے غیر مسلم تاجر خریدتے ہیں
پاور لوم ایکشن کمیٹی کے کے جنرل
سیکرٹری حاجی عبدالعزیز مقادم کا کہنا ہے کہ تاجروں نے ہنگاموں کے ڈر
سے اب تک خام مال نہیں خریدا ہے۔شہر میں خدشات کے برعکس فرقہ وارانہ
فسادات نہیں ہوئے ہیں
جمعہ کے دھماکے کے بعد لوگوں نے اے
ایس پی انیل کمار پر پتھراوکیا تھا اور ان کی گاڑی کو آگ لگادی تھی
تاہم پولیس نے کوئی گرفتاری نہیں کی اور نہ ہی لاٹھی چارج کیا۔اس
درمیان مقامی مسلم لوگوں کا کہنا ہے کہ پولس تحقیقات کے دوران نقلی
داڑھی اور ایک غیر مسلم کی لاش کی بر آمدگی کو چھپانے کی ارادتاًکوشش
کررہی ہے جس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ پولس کی نیت صاف نہیں ہے اور
کسی نہ کسی طور پر اس واقعے میں بھی مسلم فرقہ کو ہی کٹ گھرے میں
کھڑا کرنے کی کوششوںمیں مصروف ہے
لوگوں کا کہنا ہے کہ پولس اگروال
سائیکل والے کو بچانے کی کوشش کررہی ہے |