|
افضل کو20اکتوبر کو دہلی کی تہاڑ
جیل میں پھانسی دے دی جائے گی
ایڈیشنل سیشن جج رویندر کور
نے سزائے موت کا فرمان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارہ مولہ کے رہنے
والے محمد افضل کو یہاں تہاڑ جیل میں 20اکتوبر کو صبح6بجے پھانسی دی
جائے گی اور اسے اس وقت تک پھانسی پر لٹکائے رکھا جائے جب تک کہ اس
کی موت نہ ہوجائے۔
ہرچند کہ سینٹرل جیل (تہاڑ جیل) کے ترجمان سنیل کمار گپتا نے کہا ہے
کہ انہیں محمد افضل کو پھانسی دینے سے متعلق سرکاری طور پر کوئی
اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے لیکن آف دی ریکارڈ جیل عملے نے پھانسی
کیلئے جملہ تیاریاں مکمل کر لی ہیں
تہاڑ جیل کے ترجمان کہتے ہیں کہ
ہمیں اس سلسلہ میں باضابطہ کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ جب
تک ہمیں حکم نہیں ملتا ہے اس وقت تک ہم اس مسئلہ پر کوئی تبصرہ
نہیں کرسکتے
دریں اثناء انہوں نے یہ بھی بتایا
کہ ملزم کی رحم کی درخواست حکومت کے پاس اب بھی زیر التوا ہے۔ تاہم
ذرائع نے بتایا کہ درخواست کی مدت ختم ہوچکی ہے۔ملزم کو پھانسی دینے
سے متعلق جیل کی تیاریوں کے سلسلے میں انہوں نے بتایا کہ ہدایت
ملنے کے بعد وقت ضائع کئے بغیر تیاری کی جاسکتی ہے
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تیاری کا
انحصار حکم کی نویت پر ہوتا ہے۔تہاڑ جیل میں پچھلی
بار6جنوری1989کو سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کے قاتلوں ستونت سنگھ
اور بے انت سنگھ کو پھانسی دی گئی تھی۔
محمد افضل 13دسمبر2001کو پارلےمنٹ
پر حملے کے معاملے کے ملزمان میں سے ایک ہے، جسے موت کی سزا دی گئی
ہے۔ اس کی موت کے حکم کی سپریم کورٹ کے ذریعہ 4اگست2005کو توثیق کی
گئی تھی۔ جس میں شوکت حسین گرو کی سزا کو دس سال کی قید بامشقت
میں تبدیل کردیا گیا ہے
خصوصی ٹاڈا عدالت نے دہلی یونیورسٹی
کے لکچرر ایس اے آر گےلانی اور شوکت حسین گرو کے ساتھ18دسمبر
کو2002کو محمد افضل کو سزائے موت دی تھی
عدالت نے شوکت حسین گرو کی
بیوی افشاں گرو کو بھی پانچ سال سخت سزا اور معلومات چھپانے کی سازش
میں شامل ہونے کے لئے دس ہزار روپے کا جرمانہ بھی سنایا تھا |