|
بیس تاریخ کو پھانسی دینے کی سزا
سنائی ہے پارلےمنٹ ہاوس پر دہشت گردانہ حملے
کے کلیدی ملزم محمد افضل کو پھانسی دیئے جانے کے دہلی کی ایک عدالت
کے فیصلے کے خلاف آج جموں و کشمیر کے کئی حصوں میں ہونے والے
مظاہروں کے دوران جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ یاسین ملک سمیت کئی لیڈروں
کو گرفتار کرلیا گیا ذرائع کے مطابق پولیس نے ملک
بشیراحمد، نور محمد کلوال، شیخ عبدالرشید، گلزار احمد ہارون اور غلام
محمد ہزاری کو احتیاطََ حراست میں لے لیا۔ یہ سبھی میسومہ میں
جے کے ایل ایف کے ہیڈکوارٹر کے نزدیک مظاہرہ کر رہے تھے
مظاہریننے پولیس پر پتھراو
کیااور ٹائر جلائے۔ اس دوران ہونے والے تشدد میں پولیس کے دو جوان
شدید زخمی ہوگئے۔ کئی مظاہرین کے زخمی ہونے کی بھی خبر ہے۔جے کے ایل
ایف کے مخالف گروپ کے جاوید میرکو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔
بارہمولہ اور افضل کے آبائی شہر سوپور سے بھی مظاہرہ کئے جانے کی
اطلاع موصول ہوئی ہے
خیال رہے کہ13دسمبر 2001کو پارلےمنٹ
کی عمارت پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے قصوروار افضل کو عدالت کے
حکم کے مطابق20اکتوبر کو پھانسی پر لٹکایا جائے گا، جو اس وقت دہلی
کی تہاڑ جیل میں بند ہے
محمد افضل دوسرے کشمیری ہیں جنہیں
علیحدگی پسند تحریک میں ملوث ہونے اور شدت پسند کارروائی میں شامل
ہونے کے جرم میں پھانسی کی سزا دی جارہی ہے۔ اس سے قبل 1984میں جے کے
ایل ایف کی بنیاد ڈالنے والے محمد مقبول بھٹ کو ایک ہندوستانی خفیہ
افسر کے قتل کے الزام میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی
حکومت نے ان کی جسد خاکی کو ان کے
لواحقین کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تھا اور انہیں جیل کے احاطے
میں ہی دفن کردیا گیا تھا |