|
اپنا استعفیٰ ارسال کرایا ہے ان میں
مدھوکوڑا، اینوس ایکا، ہری نارائن رائے اور کملیش کمار شامل ہیں
خبروں کے مطابق چاروں وزراء کے
استعفیٰ کے بعد جھارکھنڈ میں اٹھنے والا سیاسی طوفان کسی بڑی تباہی
کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے اور وزیراعلیٰ ارجن منڈا کی حکومت زوال
سے دوچار ہوسکتی ہے
ان چاروں وزراء کے استعفیٰ کے ساتھ
ہی ظاہری نقطہ نگاہ سے ہی ارجن منڈا حکومت اقلیت میں
آچکی ہے
حالانکہ اقلیت وا کثر یت کا فیصلہ
تو ایوان میںہی ممکن ہے لیکن باوثوق ذرائع کے مطابق 81 رکنی اسمبلی
کے 42اراکین کی حمایت سے اقتدار پردوبارہ جلوہ بارہونے والے
وزیراعلیٰ ارجن منڈا کے ساتھ صرف 38اراکین رہ گئے ہیں
منڈا کابینہ کے ان چاروں رفقاء کا
ساتھ چھوڑنا خلاف توقع نہیںہے کیونکہ تبدیل شدہ سیاسی حالات کے تحت
کل ہی اس بات کی قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ یہ چاروں برگشتہ ورزاء
کسی بھی وقت اپنے استعفیٰ نامے گورنرکو سونپ دیں گے
دریں اثناء ایک متبادل حکومت کی
تشکیل کےلئے سرگرم سیاسی رابطے کا عمل شروع ہوچکا ہے اور توڑجوڑ کی
سیاست عروج پر جاپہنچی ہے
|