|
نے فائرنگ مےں صرف دو افراد کی
ہلاکت کی تصدیق کی ہے
پولس کی اس کارروائی کے بعد
علاقے میں کشیدگی کا ماحول برقرار ہے،امن قائم کرنے کیلئے سریع
الحرکت فورس طلب کر لی گئی ہے۔ پولس کی گولی باری میں ہلاک ہونے والے
افراد میں ایک 7سالہ بچہ بھی شامل ہے
خبروں کے مطابق شمال مشرقی دہلی کے
سیلم پور علاقے میں ایم سی ڈی کی جانب سے کی جانے والی سیلنگ کے خلاف
کاروباری طبقہ نے مکمل ہڑتال کیا ہوا تھا اور اس درمیان پولس کی ایک
گشتی پارٹی وہاں سے گزر رہی تھی
پولس کا کہنا ہے کہ مشتعل ہجوم نے
پولس پارٹی پرسنگ باری کی اور ڈپٹی کمشنر آف پولس کو نشانہ بنایا
مزاحمت کے نام پر کی جانے والی
وحشیانہ پولس کارروائی کے تحت بے تحاشہ فائرنگ شروع کردی گئی اور اس
کے نتیجے میں ایک کے بعد ایک لاشوں کا گرنا شروع ہوگیا حالانکہ پولس
کا کہنا ہے کہ اس نے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے اس وقت گولی
باری کی تھی جب ہجوم کی جانب سے نقص امن برپا کرنے کی کوشش کی گئی
تاہم عینی شاہدین کہتے ہیں کہ پولس
کی جانب سے بلا اشتعال کی جانے والی کارروائی کے نتیجے میں انسانی
جانوں کا یہ اتلاف عمل میں آ یا۔دریں اثنا سلیم پور اور
موج پور کے درمیان ایک اندازے کے مطابق5کلومیٹر کا علاقہ میدان
جنگ کا منظر پیش کررہا تھا۔ ہر طرف اینٹ پتھر اور ٹوٹی ہوئی
لاٹھیاں بکھری تھیں ۔ حتیٰ کہ اس پورے علاقے میں سیمنٹ کے بنے
ہوئے روڈ ڈےوائڈر بھی ٹوٹ گئے
ادھرایم سی ڈی کی جانب سے جاری
سیلنگ کے خلاف مظاہرین پربلا اشتعال پولس فائرنگ سے نہ صرف یہ کہ
سیلم پور علاقے میں سخت کشیدگی پھیل گئی ہے بلکہ جعفرآبادبھجن پورہ
وغیرہ علاقوں میں بھی پولس اور دہلی حکومت کے خلاف رائے عامہ میں
شدیدغم وغصہ پایا جارہا ہے
خبروں کے بقول سیلم پور میں پولس
فائرنگ کے بعد جعفر آباد کے علاقے میں بھی شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔
حالانکہ گولی باری کے اس واقعہ کے بعد راجدھانی کے حالات انتہائی
کشیدہ ہوگئے ہیں تاہم حکام نے صورت حال کو قابو میں بتایا ہے
خیال رہے کہ عدالتی احکامات کے تناظر میں ان دنوں دہلی میں غیر
قانونی عمارتوں کے انہدام کی کارروائی چلائی جا رہی ہے جس کے خلاف آج
دہلی والوں نے مکمل ہڑتال کیا ہوا تھا اس دوران پوری دہلی میں لوگوں
نے مظاہرے کئے اور جم کر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا
یہاں یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ
دہلی میں ماسٹر پلان کے تحت تزئین کاری کے جو منصوبے بنائے گئے ہیں
اس میں بڑی تعداد میں عام شہریوں کے مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے اور
آدھی دہلی گویا اس منصوبے اور سیلنگ کے خلاف مظاہرے میں شریک ہے |