|
کہ حکومت ہند حکومت پرتگال کو
دیئےہوئے اپنے اس دعوے کی خلاف ورزی کررہی ہے جو اس نے 11 نومبر 2005
کو ابو سالم کی حوالگی کے وقت کہا تھا۔عرضی گزار کے مطابق حکومت ہند
نے یہ کہا تھا کہ وہ عرضی گزار پر ایسی کسی جرم کے لئے مقدمہ
نہیں چلائے گی جس کے تحت عمر قید یا موت کی سزا دی جاسکتی ہے
بھارتی زیر زمین دنیا کا بادشاہ ، ابوسالم کی کہانی
پڑھنے کےلیئے کلک کریں
ابو سالم نے اپنی عرضی میں کہا ہے
کہCBIکی داخل کردہ عرضی مےں جن جرائم کا ذکر ہے اگر اس کا قصور وار
ٹھہرایا جاتا ہے توانہیں 25 سال سے زیادہ سزانہیں دی جا
سکتی
قابل ذکر ہے کہ بم دھماکوں کےس کے
123 ملزمان ہیں، اس میں کئی ہزار استغاثہ کے گواہ ہیں
ممبئی کے خصوصی جج کئی حصوں میں فیصلہ سنا رہے ہیں ، میمن کنبہ
کو عدالت قصوروار قرار دے چکی ہے
دیگر ملزمان فلم اسٹار سنجے دت
مافیا ڈان داوود ابراہیم بھی شامل ہیں ۔1993 کا ممبئی بم دھماکوں کا
کیس دنیاکا سب سے بڑا مقدمہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ 1994 میں شروع
ہوا تھا اسے مکمل ہونےمیں 12 سال لگے
ٹاڈا عدالت نے پہلا فیصلہ 12 ستمبر
2006 میں سنایا تھا۔عرضی گزار کے مطابق اگر ان کا مقدمہ علاحدہ ہوگا
تو پھر عدالت کے ریکاارڈ کردہ ملزمان کے اقبال جرم اور سرکاری گواہ
کے بیانات کا ان کے دفاع میں استعمال نہیں ہوسکے گا
مذکورہ ثبوتوں کی گہری جانچ سے عرضی
گزار ان الزامات سے واضح طور پر بری ہو جائےں گے جن پر انہیں
پرتگال سے حوالے کیا گیا ہے۔ادھر دوسری جانب1993میں ممبئی بم
دھماکوں کے کیس کے مزید دو ملزمان اصغر مقدم اور شاہنواز قریشی کو
مجرم گردانا گیاہے
ان دھماکوں میں 257افراد ہلاک اور
700 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ٹاڈا جج پرمود کوڈے نے ٹاڈا تعزیرات ہند
دھماکہ خیز مادہ قانون اور اسلحہ قانون کی مختلف دفعات کے تحت ان
دونوں کو سینٹرل ممبئی کے دادر علاقہ میں واقع پلازہ سنیما ہال میں
بم رکھنے کا قصور وار پایا
۔12مارچ1993کو ہوئے اس بم دھماکے
میں دس افراد ہلاک اور36دیگر زخمی ہوگئے تھے
اس روز ممبئی میں 13بم دھماکے ہوئے
تھے۔گواہوں نے ان دونوں ملزمان کی شناخت کی تھی۔ دونوں مجرموں کی سزا
کا تعین بعد میں عدالت کرے گی
|