|
پانچ سال کی سزائے قید بامشقت سنائی
ساتھ ہی اس پر 1000روپے کا جرمانہ
عائد کیا گیا ۔اس کیس میں مونیکا کو تعاون دینے والے ریٹائرسب
انسپکٹر عبدالستار، ڈاکیا گوکاری صاحب اور یونس خان کو تین تین سال
کی سزائے قید بامشقت سنائی
نور احمد اور جی سری نواس نامی دیگر
دو ملزموں کو اس کیس سے بری کردیا گیا دریں اثناء مونیکا بیدی کی سزا
کے بارے میں سن کر ابوسالم کافی مایوس ہوگیا جسے آج عدالتی
تحویل بڑھانے کے سلسلے میں ممبئی میں ٹاڈا کے جج پی ڈی کوڈے کی
عدالت میں پیش کیا گیا
مونیکا بیدی انڈر ورلڈ مافیا ڈان
ابو سلیم کی محبوبہ ہیں۔ 2001 میں ان پر جعلی نام سے پاسپورٹ بنانے
کا ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مونیکا بیدی اور ابو سلیم کو طویل
قانونی لڑائی کے بعدگزشتہ برس نومبر میں پرتگال سے ہندوستان لایا گیا
تھا۔ مونیکا تبھی سے حید رآباد کی ایک جیل میں قید ہیں
عدالت نے ان پر10ہزار روپے جرمانہ
بھی عائد کیا ہے۔ سی بی آئی یعنی مرکزی تفتیشی بیورو کی خصوصی عدالت
نے اس سلسلے میں ایک سبکدوش پولیس اہل کار عبد الستار اور ڈاکیہ کو
بھی پانچ برس قید کی سزا سنائی ہے جبکہ ایک اور ملزم محمد یونس کو
تین سال کی سزا سنائی گئی ہے
اس معاملے کے دو ملزمان نور محمد
اور سری نواس کو بری کر دیا گیا ہے۔آندھر پردیش کے شہر کرنول سے
مونیکا نے ثناء ملک اور ابو سلیم نے رامل ملک کے نام سے مبینہ طور پر
پاسپورٹ بنوایا تھا
لیکن اس بات کا پتہ چلنے سے پہلے ہی
مونیکا اور ابو سلیم ملک سے باہر جا چکے تھے۔مونیکا بید ی پر اس کے
علاوہ بھی کئی مقدمات درج ہیں۔ جعلی پاسپورٹ کے سلسلے میں ان پر ایک
کیس بھوپال میں چل رہا ہے
ان کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ اس بات
کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ خود مونیکا ہی نے پاسپورٹ بنانے کی درخواست
دی ہو۔تمام کوششوں کے باوجود بھی انہیں ضمانت نہیں ملی
مونیکا بیدی کے والدین کا کہنا ہے
کہ ان کی صاحبزادی بے قصور ہے اور اسے گمراہ کیا گیا ہے
عدالت کے ذریعہ سزا سنائے جانے کے
فوراً بعد مونیکا بیدی نے اپنے دفاع میں کچھ بھی نہیں کہا البتہ ان
کے چہرے سے یہ بات پوری طرح عیاں ہو رہی تھی کہ وہ خود کو قصور وار
گردانے جانے سے سخت افسردہ ہیں |