|
اپنے
اطالوی نژاد ہونے کی وجہ سے تنازع
کھڑا ہونے پر وزیر اعظم کا عہدہ بھی ٹھکرا دیا تھا۔
آل انڈیا کانگریس کی مرکزی
انتخابی اتھارٹی کے صدر نشین آسکر فرنانڈیز نے ہفتہ کو اعلان کیا
کہ آج سہ پہر تین بجے پارٹی کے اعلیٰ ترین عہدہ کے لئے کاغذات
نامزدگی کے ادخال کی مہلت ختم ہوگئی ہے، اس طرح صدارت کے لئے صرف
سونیا گاندھی واحد دعویدار رہ گئیں ہیں۔
سونیا گاندھی کا انتخاب پہلے سے
طے شدہ امر تھا۔ وزیر اعظم من موہن سنگھ اور کئی سینئر قائدین کے
علاوہ پارٹی کے چیف منسٹرس اور مرکزی وزراء نے اس اعلیٰ عہدہ پر ان
کا نام تجویز کرتے ہوئے 100 سے زائد کاغذات نامزدگی داخل کئے تھے۔
گزشتہ انتخابات کے بر خلاف اس
مرتبہ سونیا گاندھی کو کسی نے چیلنج نہیں کیا۔ پچھلے انتخابات میں
سینئر قائد آنجہانی جتیندر پرساد نے اپنا مقدر آزمانے کی کوشش کی
تھی۔
پارٹی کے اعلیٰ عہدہے پر سونیا
گاندھی کے انتخاب میں ساری جماعت نے ان کا ساتھ دیا۔
وزارت عظمیٰ کو ٹھکرانے کے بعد
انہیں یوپی اے کا چیئرپرسن بھی مقرر کردیا گیا۔ ایک سال قبل لوک
سبھا انتخابات کے بعد خود سونیا گاندھی نے من موہن سنگھ کو نامزد
کیا تھا۔
سونیا گاندھی قومی مشترکہ اقل
ترین پروگرام (این سی ایم پی) کے نگران ادارے قومی مشاورتی کونسل
کی سربراہ بھی ہیں۔
مرکز میں یو پی اے کے برسر اقتدار
آنے کے بعد کانگریس کے یہ پہلے تنظیمی انتخابات ہیں۔
سونیا گاندھی نے 1998 میں پارٹی
کی صدر کی حیثیت سے سیتا رام کیسری کی جگہ لی تھی۔ راہول گاندھی کی
زیر قیادت کانگریس کی نئی نسل کی قیادت نے بھی سونیا گاندھی کا نام
تجویز کرتے ہوئے کاغذات نامزدگی داخل کئے تھے۔ |