|
وزیراعلیٰ ولاس رائودیشمکھ سے
ملاقات کی اور اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا۔ تقریباً بارہ برس قبل
ممبئی میں پاکستانی قونصل خانہ انتظامیہ کے عدم تعاون کی وجہ سے
بند کردیا گیا تھا اس دور
میں ایک ہوٹل میں دفتر کھولا گیا تھا۔
عزیزاحمد خان نے جنوبی ممبئی میں
کرکٹ کلب آف انڈیا میں بھارتی تاجروں،
پاکستان میں پیدا ہونے والے بزرگوں اور
ایسے افراد سے بھی ملاقات کی جن کے اہل خانہ سرحد
کے دونوں طرف موجود ہیں۔
عزیزخان سے قبل پاکستان کے ڈپٹی
ہائی کمشنر منوربھٹی نے شہر کا دورہ کیا تھا اور شہر اور مضافات کے
تجارتی علاقوں میں قونصل خانے کے لئے
جگہ کی تلاش کی تھی۔ دونوں ملکوں کے
درمیان معاہدے کے سبب اس بار پاکستانی سفارتی عملے کو ریاستی حکومت
کا بھرپور تعاون ہے۔
ہائی کمشنر عزیز احمد خان نے کہا
کہ وہ منور بھٹی کی جانب سے تیار کردہ فہرست میں شامل کسی ایک مقام
کو حتمی شکل دینے کی غرض سے آئے ہیں۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تقریباً انیس سال قبل
وہ ڈپٹی ہائی کمشنر کے عہدے پر فائز تھے اوراسی مقصد کے تحت
1986 میں ممبئی آئے تھے۔ اس عرصے میں
ممبئی میں جائدادوں کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اس لئے شہرکے
مضافاتی علاقوں اور نئی ممبئی میں جگہیں دیکھی گئی ہیں ممبئی میں
اس سال کے آخر میں ویزا آفس کھول دیا جائے گا۔
عزیز خان نے کہا کہ دونوں ملکوں
کے درمیان بہتر تعلقات کی وجہ سے ویزے کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے
اور ہم نے چار سو سے اس کی تعداد ایک ہزار کردی تھی لیکن اب ڈیڑھ
ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔
گزشتہ شب عزیز خان نے بزرگ
شہریوں، پاکستان میں پیداہونے والے ہندوستانیوں اور تاجروںسے ویزے
کے اصولوں اورضوابط کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔
اس موقع پر پروڈیوسر رام دیال
سبھروال نے تجویز پیش کی کہ بزرگ شہریوں کو پولس اسٹیشن میں رپورٹ
کرنے سے مستثنیٰ قراردیا جائے۔ سبھروال کے والد نے
تقسیم کے بعد 1947
میں پہلی پاکستانی فلم (تیری یاد) بنائی تھی ۔عزیزخان نے اس تجویم
سے اتفاق کیا اور کہا کہ اس پر جلدعمل ہوگا۔
پاکستان کا مطالبہ تھا کہ جنوبی
ممبئی کے متمول علاقے میں واقع بانی پاکستان محمد علی جناح کے
شاندار بنگلے کو قونصل خانے میں تبدیل کردیا جائے لیکن اب پاکستان
اس پر اصرار نہیں کر رہا ہے اور قونصل خانے کے لئے جگہ تلاش کی
جارہی ہے جس میں انتظامیہ کا بھی تعاون حاصل ہے۔ |