ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

 
 
 

 

 

 

 

 
 
 

 

 
 
 

 

 
 
 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
 

Tuesday, 20 December 2005 23:20 PSTاشاعت

 

منموہن سنگھ کو اردو پر عبور

 

یاسمین خان ۔ نئی دہلی

اردو سروس ۔ نیٹ

 

منموہن سنگھ ان سکھوں میں شامل ہیں جو اردو روانی سے پڑھتے ہیں

بھارت کی آزادی کے دن پر حسب سابق بھارت کے وزیر اعظم نے جنتا سے خطاب کیا لیکن اس بار وزیر اعظم کا جنتا سے خطاب کچھ عجیب لگ رہا تھا ہر خاص و عام اس خطاب پر حیران ہو رہا تھا۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ جب  تقریر کر رہے تھے تو ایسے دکھتا تھا جیسے منموہن سنگھ

اپنی تقریر سیدھی کی بجائے الٹی پڑھ رہے ہیں

بھارتی زبان میں جب لکھی ہوئی تقریرپڑھی جاتی ہے تو وہ انگریزی کی طرح بائیں سے دائیں طرف کو جاتی ہے۔یعنی عربی فارسی اردو میں دائیں سے بائیں طرف اور انگریزی ہندی بائیں سے دائیں طرف کو

لیکن منموہن سنگھ سترہ اگست کو جب جنتا کے سامنے تقریر کررہے تھے جو کہ لکھی ہوئی تھی تو وہ دائیں سے بائیں طرف صفحہ الٹا رہے تھے جس سے دیکھنے والے حیرت میں دوب سے گئے

کچھ نے فوری محسوس کیا کہ منموہن سنگھ کی تقریر غلط طرف سے لکھی گئی ہے۔ یعنی بجائے شروع کے صفحات سے پیچھے کے صفحات سے لکھی گئی یا کچھ اور گڑ بڑ ہو گئی ہے  جس کی وجہ سے منموہن سمگھ اپنی تقریر والے صفحوں کو آخیر کے صفحے سے دائیں سے بائیں طرف پلٹ رہے تھے

اسی شش و پنج اور حیرتی گھڑیوں میں تقریر پوری ہوئی تو بعد میں معلوم ہوا کہ اس بار بھارتی وزیر اعظم نے بھارت کی آزادی کے دن پر اپنی تقریر ََ  اردو  ََ میں لکھوائی تھی یا ان کی خواہش پر لکھی گئی تھی

منموہن سنگھ ان سکھوں میں شامل ہیں جو اردو بڑی روانی سے بول اور پڑھ لیتے ہیں

تقسیم ہند کے وقت ہی منموہن سنگھ اردو لکھنا پڑھنا اور بولنا سیکھ چکے تھے

لیکن منموہن سنگھ نے بہرحال دیکھنے والوں کو ایک بار حیرت میں ڈال دیا تھا

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

دوست کو ارسال کریں

صفحہ اول

 

صفحہ اول

پاکستان

بھارت

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

فن اور فنکار

کالم ۔ تجزیئیے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

©urdu-serviceتمام جملہ حقوق بحق اردو سروس محفوظ ہیں