|
بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی
کے مطابق اگرچہ وزارت دفاع کے سینئر حکام کو گوہر ایوب کے دعوے پر
یقین نہیں لیکن وزیر دفاع پرنب مکھر جی کی ہدایت پر تحقیقات کی
جارہی ہے تاکہ دعوے کی تصدیق یا تردید اور متعلقہ فوجی افسر کی
شناخت ہوسکے۔
پرنب مکھر نے جی نے منگل کو
کرناٹک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تسلیم کرنا مشکل
ہے کہ ایک بریگیڈیر نے رقم کے لیے فوجی راز فروخت کیے ہوں گے۔ ان
کا کہنا تھا کہ واقعہ تیس چالیس سال پہلے ہوا تھا اور یہ معلوم
نہیں کہ مذکورہ بریگیڈیر زندہ ہے یا نہیں۔
دارالحکومت نئی دہلی میں منگل کو
بھارتی فوج کے سربراہ جنرل جسونت جوگیندر سنگھ کی زیرصدارت ایک
اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی ہوا جس میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن اور
ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس نے شرکت کی۔
پی ٹی آئی کے مطابق اگر الزامات
درست ثابت ہوئے تو بریگیڈیر کو شناخت کرنا مشکل نہیں ہوگا کیونکہ
1965 میں آرمی ہیڈ کوارٹرز میں چند ایک
بریگیڈیرز ہی تھے۔
گوہر ایوب نے کہا تھا کہ پاکستان
کو راز فروخت کرنے والا بھارتی بریگیڈیر ابھی زندہ ہے۔
1965
میں پاک بھارت جنگ کے وقت پاکستان میں صدر ایوب کی حکومت تھی۔ |