ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

 
 
 

 

 

 

 

 
 
 

 

 
 
 

 

 
 
 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
 

Tuesday, 20 December 2005 23:20 PSTاشاعت

 

ڈانس بار میں کام کرنے پر پابندی

 

ریشما رضوی،لکھنؤ

اردو سروس ۔ نیٹ

 

حال ہی میں حکومت مہاراشٹر نے باروں میں ڈانس پر پابندی عائد کی ہے

جب سے ہندوستان کی تجارتی ممبئی سمیت پورے مہاراشٹر میں بار ڈانس پر حکومت نے پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے بارگرلز سخت دشواریوں میں مبتلا ہو گئی ہیں اور انکی روزی کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہےانہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں جب تک کوئی متبادل

روزگار نہیں ملتا اس فیصلہ پر عمل درآمد نہ کیا جائے
شیتل جو ایک بار گرلز ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اگر بار ڈانس بند کر دئیے گئے تو اپنے 22 افراد پر مشتمل خاندان کا پیٹ کیسے بھرینگی
ان کا کہنا ہے کہ وہ کوئی بھی نوکری کر سکتی ہیں لیکن کیا اتنے اس نوکری سے وہ اتنے افراد کا پیٹ پال سکتی ہیں
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر انہیں 3 ہزار تنخواہ ملتی ہے تو وہ اسے کبھی بھی گوارہ نہیں کرینگی، شیتل کا کہنا ہے انہیں کم از کم 5 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ چاہئیے تب کہیں وہ اپنے خاندان کی دیکھ بھال کر سکتی ہیں
انہوں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تنخواہ کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ وہ ڈانس بار سے اس بھی زیادہ کما لیتی ہیں
شیتل کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کوئی متبادل راستہ نکالنا چاہتی ہے تو انہیں معقول معاوضہ دیا جائے
شیتل نے بتایا کہ ان کے خاندان میں اکثریت بوڑھے افراد کی ہے جن میں زیادہ تر خاتون ہیں اور مرد بھی بیمار ہیں جن میں ایک مرد معذور بھی ہے
انہوں اپنے خاندان کی کفالت کے بارے میں کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ اپنے خاندان کےلئیے کام کرتی ہیں اور ان کا پیٹ پالتی ہیں اور تنہا گھر کا خرچ اٹھائے ہوئے ہیں
کولکتہ کی 19 سالہ بینا کا کہنا ہے کہ وہ کوئی بھی کام کرنے کےلئیے تیار ہیں لیکن اس کا معاوضہ معقول ہونا چاہئیے
انیتا نامی لڑکی کا تعلق بھی بر گرل نوکری سے ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ کوئی بھی نوکری کرنے کےلئیے تیار ہیں لیکن انہیں ماہانہ 25 ہزار روپے تنخواہ چاہئیے
مہاراشٹر حکومت ایک نہیں بلکہ دو مختلف مسائل میں گھری ہوئی ہے
ایک تو بار ڈانس بند ہونے سے شہر میں بے چینی پائی جاتی ہے اور دوسرا حکومت کے سامنے جو مطالبات ان بار گرلز نے رکھے ہیں اور جو معاوضہ وہ دوسری کوئی نوکری کرنے کےلئیے مانگ رہی ہیں وہ حکومت کےلئیے ممکن نہیں، کیونکہ ایک عام آدمی 20 سے 25 ہزار کہیں سے بھی نہیں پاتا جبکہ اوسط تنخواہ 6 سے 10 ہزار روپے تک ہے
اور بر گرلز کے مطالبات نے حکومت کےلئیے پچیدگی پیدا کر دی ہے
اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان بار گرلز کے مطالبات پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے
حکومت نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

دوست کو ارسال کریں

صفحہ اول

 

صفحہ اول

پاکستان

بھارت

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

فن اور فنکار

کالم ۔ تجزیئیے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

©urdu-serviceتمام جملہ حقوق بحق اردو سروس محفوظ ہیں