|
علیحد گی پسند تنظیموں کے گروپ
میں شامل کیا گیا ہے۔
اس پر آرایس ایس نےامریکہ کےدہشت
گردی ریسرچ مرکزکو ایک خط روانہ کرکے’دہشت گرد‘قرار دینےپر سخت
عتراض جتلایا ہے لیکن مرکز کی جانب سےکوئی جواب نہیں آیا۔
واضح رہےکہ آرایس ایس خود کو ایک
ثقافتی تنظیم کہتی ہے۔ لیکن ایسٹ ورجینا کے دہشت گردی ریسرچ سینٹر
نےآرایس ایس کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔
آرایس ایس کےترجمان رام
مادوکےمطابق اس سلسلہ میں سینٹرکو خط روانہ کر کے تنظیم کا نام
خارج کرنےکا مطالبہ کیا گیا۔
اس فہرست میں آرایس ایس کےساتھ
لشکر طیبہ اورحزب المجاہدین بھی شامل ہیں جبکہ رجنش کےماننےوالوں
کی تنظیم اسوہو osho اوربھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں سرگرم
تنظیم الفا، این ایل ایف ٹی اور نکسلی تنظیم پیپلز وارگروپ بھی
شامل ہیں۔
|