|
روانہ ہوئے جبکہ 17
مسافر ایسے تھے جو بھارت
کے زیر انتظام کشمیر سے پچھلی بس
کے ذریعے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آئے تھے۔
مظفرآباد سے بس کی روانگی کے موقع
پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔
بس سروس کی چوتھی کڑی میں سفر
بخیر و عافیت مکمل ہوا اور کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں
آیا۔
سات اپریل کو اس بس سروس کے آغاز
سے ایک روز پہلے سری نگر میں اس عمارت پر حملہ کیا گیا تھا جہاں بس
کے مسافر ٹھہرے ہوئے تھے۔
بس سروس کے اعلان کے موقع پر ہی
کشمیری عسکریت پسندوں نے دھمکی دی تھی کہ وہ اس سروس کو ناکام بنا
دیں گے۔
تاہم چوتھی بس پر حملے کی کوئی
کوشش نہیں کی گئی۔
کشمیر بس سروس سے مستفید ہونے
والے مسافر کسی پاسپورٹ یا ویزے کے بجائے ایک انٹری پرمٹ پر سفر
کرتے ہیں جسے کنٹرول لائن کے دونوں جانب کی حکومتیں منظوری دیتی
ہیں۔
|