ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

 
 
 

 

 

 

 

 
 
 

 

 
 
 

 

 
 
 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
 

Tuesday, 20 December 2005 23:19 PSTاشاعت

 

ایڈوانی اکھنڈ بھارت کے بھی خلاف

 
   

ایڈوانی ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں

بھارت کےاپوزیشن لیڈر اور قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ ایل کے ایڈوانی نے کہا ہے کہ وہ سخت گیر ہندوئوں کے نظریے "اکھنڈ بھارت" پر یقین نہیں رکھتے۔ایڈوانی جو ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں، نے  کہا کہ پاکستان اور بھارت کا الگالگ خود مختار مملکتوں

کی حیثیت سے وجود ایک تاریخی حقیقت ہے جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

"اکھنڈ بھارت" بھارت کے بعض سخت گیر ہندو رہنمائوں کا نظریہ ہے جو قیام پاکستان کے مخالف ہیں اور پاکستان اور بنگلہ دیش  کے پورے علاقے  کو بھارت میں شامل ہوتا دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔

ایڈوانی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی ہندو قوم پرست جماعت کہا جاتا ہے اور اس پر ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد کے انہدام میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔تاہم ایل کے ایڈوانی نے دو روز قبل کہا تھا کہ بابری مسجد کا انہدام ان کی زندگی کا "اداس ترین دن" تھا۔

جمعرات کو لاہور میں سائوتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن( سیفما) کے استقبالیے میں خطاب کرتے ہوئے ایل کے ایڈوانی نے کہا، " جہاں تک میری پارٹی کا تعلق ہے ، میں پاکستان کے عوام کو یہ بتانا چاہوں گا کہ پاکستان اور بھارت کا دو الگ ، خودمختار مملکتوں کی حیثیت سے قیام ایک تاریخی حقیقت ہے جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا، میں یہ بات اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میرا خیال ہے بی جے پی کے پاکستان سے متعلق خیالات کے بارے میں اب بھی  بعض غلط فہمیاں اور جھوٹا پروپیگنڈہ موجود ہے"

 ان کا کہنا تھا کہ اب اس پروپیگنڈے  کی کوئی بنیاد نہیں کیونکہ بی جے پی ہی وہ جماعت تھی جس نے اپنے دورِ اقتدار پاکستان کے ساتھ امن عمل شروع کیا۔

اکھنڈ بھارت کا نظریہ بھارتیہ جتنا پارٹی کے ابتدائی منشور میں شامل تھا اور یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پارٹی کے کسی رہنما کی جانب سے اس نظریے کی اتنی واضح مخالفت کی گئی ہے۔

ایڈوانی کو بابری مسجد سے متعلق اپنے بیان پر پہلے ہی انتہا پسند ہندوئوں کی جانب سےتنقید کا سامنا ہے۔

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

دوست کو ارسال کریں

صفحہ اول

 

صفحہ اول

پاکستان

بھارت

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

فن اور فنکار

کالم ۔ تجزیئیے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

©urdu-serviceتمام جملہ حقوق بحق اردو سروس محفوظ ہیں