|
بھی ایسے
طیارے کو مارگرایا جا سکتا ہے جو ائر کنٹرول سے رابطہ نہیں کریگا
یا اپنے مخصوص روٹ سے ہٹ کر ملک کے کسی اہم مقام جیسے پارلیمنٹ
ہاوس۔ وزر اعظم ہاوس یا صدر ہاوس یا انڈیا گیٹ جیسے مقام کی جانب
جائےگا
اس سے پہلے
سن انیس سو نناوے میں بھارت کا ایک مسافر طہاری اغوا ہوا تھا جسے
بعد ازاں افغانستان کی سر زمین پر لے جایا گیا تھا
ملک کی
سیکورٹی کے بارے میں بلائے گئے کابینہ کے اجلاس میں اس نئی پالیسی
کی منظوری دی گئی ہے میڈیا نے بھارت کے وزیر دفاع کے واسطے سے لکھا
ہے کہ پرنب مکھر جی کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں کوئی جہاز اغوا ہوتا
ہے تو اس کے اغواکاروں سے ان کے مطالبات نہیں مانے جائینگے بلکہ
مسافروں کی جان بچانے کےلیئے ان سے بات ہو سکے گی
نئی پالیسی
کے تحت کوئی بھی طیارہ اگر ائر کنتڑول کے بتائے ہوئے روٹ پر نہیں
چلتا یا خود کسی اور روٹ کی طرف جاتا ہے تو اسیسے طیارے کو
مارگرایا جا سکتا ہے
سیکورٹی
کابینہ کی طرف سے منظور کی گئی نئی پالیسی کے مطابق ایسے کسی بھی
جہاز کو جس کے بارے میں خطرہ ہو کہ وہ امریکہ میں گیارہ ستمبر کی
طرح ملک میں کوئی بڑا خطرہ پیدا کر سکتا ہے تو اس کو مارگرائے جانے
کا صدر۔وزیر اعظم یا وزیر دفاع ان میں سے جس سے بھی پہلے رابطہ ہو
حکم دے سکتا ہے |