|
سے متعلق اپنے بیانات واپس
لیں۔بھارت میں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایڈوانی نے پاکستان
یاترا کے دوران دیئے گئے بیانات سے اپنی سیاسی زندگی کی قبر کھود
لی ہے۔
معروف روزنامے ہندوستان ٹائمز نے
پیر کو اپنے ایک تجزیے میں کہا، " ایڈوانی نے اپنا کتبہ لکھ لیا
ہے"
ایل کے ایڈوانی پاکستان اور بھارت
کے ان رہنمائوں میں شامل سمجھے جاتے تھے جو اپنی سیاست کے لیے مذہب
کا سہارا لیتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف ایڈوانی کے بیانات ابھی بہت سے
لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہوں گے۔
ایڈوانی کا نام پاکستان کی مخالفت
کے ساتھ اس قدر جڑا ہوا تھا کہ ان کے دورے سے پہلے پاکستان میں
محدود پیمانے پر مظاہرے بھی ہوئے۔
ایڈوانی پر ہندوستان کی تاریخی
بابری مسجد کے انہدام میں ملوث ہونے کا الزام بھی رہا ہے۔
لیکن پاکستان کے دورے کے دوران
انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کا انہدام ان کی زندگی کا افسوسناک
ترین دن تھا۔
قائد اعظم کے مزار پر حاضری دیتے
ہوئے انہوں نے کہا کہ جناح نے ہمیشہ پاکستان کو ایک مسلم ملک کی
بجائے سیکولر ملک کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔
انہوں نے سروجنی نائیڈو کا یہ
جملہ بھی دہرایا کہ جناح "ہندو مسلم اتحاد کے سفیر" ہیں۔
یہی نہیں اگلے ہی روز بی جے پی کے
صدر نے کہہ دیا کہ وہ اکھنڈ بھارت کے نظریے کو نہیں مانتے اور
پاکستان کا قیام ایک تاریخی حقیقت ہے جسے تبدیل نہیں جا سکتا۔
ان بیانات نے بھارت میں تو گویا
آگ لگا دی۔ ریاست گجرات کے شہر حیدرآباد کے اس علاقے میں بھی
ایڈوانی کے بیانات کے خلاف مظاہرےہوئے جو خود ان کا اپنا انتخابی
حلقہ ہے۔
اور پیر کو جب وہ بھارت واپس
پہنچے ہیں تو آر ایس ایس کا مطالبہ ہے کہ وہ پاکستان میں دیئے گئے
بیانات واپس لیں۔
آر ایس ایس کے سیکرٹری جنرل موہن
بھاگوت اور دیگر رہنمائوں نے پیر کو رات گئے بی جے پی کے سینئر
رہنمائوں ویکنائیڈو، سنجے جوشی اور ارب جیٹ لے سے ملاقات کی اور
ایڈوانی کے بیانات پر سنگھ پریوار کا موقف بیان کیا۔
آر ایس ایس کے ترجمان رام مادھیو
نے کہا،" معاملہ بنیادی نظریات کا ہے اور یہ ممکن نہیں کہ سنگھ
(پریوار) ان (بیانات) پر سمجھوتا کرے یا انہیں قبول کرے، ان پر
نظرثانی ہونی چاہئے۔"
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے
کہا کہ اس معاملے میں ایڈوانی کی معافی بھی قبول نہیں کی جائے گی
کیونک بنیادی نظریات پر سمجھوتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اس سے پہلے بی جے پی کے رہنمائوں
نے ایک طویل اجلاس میں ایڈوانی کے بیانات اور ان کے نتائج پر غور و
خوض کیا اور جیسے ہی پارٹی کے صدر پاکستان سے لوٹے سب رہنمائوں نے
ان سے ملاقات بھی کی۔
دہلی کے سیاسی حالات دیکھ کر
معلوم ہوتا ہے ایڈوانی کے اگلے کئی روز بہت مضروفیت اور تنائو میں
گزریں گے۔ اگرچہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں دیئے گئے
ان کے بیانات دو طرفہ تعلقات کی بہتری نمایاں کردار ادا کرنے جا
رہے ہیں۔
|