|
یہاں نامہ نگاروں سے
بات چیت کرتے ہوئے مسٹر ارجن سنگھ نے کہا کہ انہوں نے’وندے
ماترم‘ کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر اسے تمام اسکولوں میں
گانے کے لئے ریاستی حکومتوں کو نہ تو کوئی یدایت نامہ بھیجا
ہے اور نہ ہی کوئی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے
ریااستی حکومتوں کو ایک خط ارسال
کرکے صرف مشورہ دیا گیا تھا۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والی
ریاستوں میں ’وندے ماترم‘ کو لازم قرار دیئے جانے کی طرف جب ان
کی توجہ مبذول کرائی گئی تو مسٹر سنگھ نے کہا کہ ’اگر وہ ایسا کررہی
ہیں تو اس سلسلے میں ان سے ہی وضاحت طلب کریں ‘۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ’وندے
ماترم‘ گاتا ہے تو اس پر کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے تاہم یہ کسی پر
لازم قرار نہےں دیا گیا ہے
خیال رہے کہ قومی گیت ’وندے ماترم‘
کا معاملہ ان دنوں خاصا گرم ہے
مختلف حلقے اس کی حمایت اور
مخالفت میں اپنی اپنی دلیلیں دے رہے ہیں
یاد رہے کہ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب مرکزی حکومت نے وندے ماترم
گیت پڑھنے کے لئے تمام ریاستوں کو ایک نوٹس جاری کیا تھا
مسلمانوں کے اعتراض کے بعد حکومت نے
یہ وضاحت کی کہ یہ کسی پر لازم نہیں کیا گیا ہے
بھارتیہ جنتا پارٹی اور وی ایچ پی
کا کہنا ہے کہ حکومت نے مسلمانوں کے دباؤ میں یہ قدم اٹھایا ہے
بنگالی شاعر و مفکر بنکم چند چٹرجی
کے قومی گیت وندے ماتر پر اس سے پہلے بھی کئی بار تنازعہ ہوا ہے
لیکن اس بار اس تنازعے کو اس وجہ سے
ہوا مل رہی ہے کیونکہ اس سال صدی تقریبات کا انعقاد عمل میں آرہا ہے
اور بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں کے مدارس میں بھی اسے گانا
لازمی قرار دے دیا گیا ہے |