Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Tuesday, 08 August 2006 23:26 (PST)اشاعت

نٹور سنگھ پارٹی سے معطل کر دیئے گئے

شاہد الاسلام

اردوسروس ڈاٹ نیٹ نئی دہلی

سابق بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ کو پارٹی سے نکالا نہیں گیا بلکہ معطل کردیا گیا

سابق وزیرخارجہ نٹور سنگھ کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے انہیں معطل کردیا ہے ۔پارٹی نے مسٹر نٹور سنگھ سے وجہ بتائو نوٹس جاری کرتے ہوئے یہ جاننا چاہا ہے کہ انہیں کیوں نہیں ڈسپلین شکنی کے الزام میں پارٹی سے خارج کردیا جائے ۔مسٹر سنگھ سے یہ

 بھی پوچھا گیا ہے کہ انہوں نے پاٹھک کمیٹی کی رپورٹ افشا ہونے کے معاملے میں بھارتی وزیر اعظم کے خلاف مراعات شکنی کا جو نوٹس ارسال کیا ہے اس کا جواز کیا ہے ۔پارٹی کی تادیبی کمیٹی کی رات گئے منعقد ہونے والی نشست میں ان کی معطلی کا فیصلہ لیتے ہوئے یہ وضاحت طلب کی گئی ہے

اس میٹنگ میں موتی لال ووہرا،سوشیل کمار شنڈے اور پرنب مکھرجی وغیرہ نے شرکت کی جبکہ تادیبی کمیٹی کی نشست کی صدارت مسٹر اے کے انٹونی نے کی ۔تادیبی کمیٹی کا ماننا ہے کہ مسٹر نٹور سنگھ نے ڈسپیلن شکنی کا ارتکاب کیا ہے چنانچہ انہیں فوری عمل سے معطل کیا جانا چاہئے

ذرائع کی اطلاع کے مطابق نٹور سنگھ کو فی الحال پارٹی سے نکالا نہیں گیا ہے البتہ انہیں ابتدائی رکنیت سے معطل کرتے ہوئے پارٹی کی جملہ سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت سے محروم کردیا گیا ہے

خیال رہے کہ سابق بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے 2001 میں اقوام متحدہ کے تیل برائے خوراک معاملہ کے تحت اپنے صاحب زادہ جگت سنگھ کے دوست عندلیب سہگل کیلئے عراقی وزیر پٹرولیم کوتیل ٹوکن کی غرض سے سفارشی مکتوب لکھا تھا جسے پہلے وولکر کمیٹی کی رپورٹ میں زیر موضوع لایا گیا بعد کو پاٹھک اتھاریٹی نے بھی اس کا ذکر کیا جسے کانگریس نے بنیاد بناتے ہوئے تادیبی کارروائی کی ہے

دریں اثنا سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے ایک بھارتی خبریہ چینل سے گفتگو کے دوران ان مراسلوں کی صداقت سے انکار کیا اور کہا کہ میں نے کبھی ایسے سفارشی خطوط نہیں لکھے ہیں

انہوں نے ان مراسلوں کے نفس مضمون پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جن مکتوب کو بنیاد بناتے ہوئے تادیبی کارروائی کی جارہی ہے درحقیقت اس کا وجود ہی نہیں ہے ۔یاد رہے کہ نٹور سنگھ گذشتہ چالیس برسوں سے کانگریس کا ہاتھ تھامتے چلے آرہے تھے

 اس درمیان انہوں نے پارٹی کے برے دنوں میں بھی اس کا ساتھ دیا تاہم حال کے دنوں میں ان کی قسمت کا ستارہ اس وقت گردش میں آگیا جب وولکر کمیٹی کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے خلاف پہلے قلمدان اور بعد کو منموہن وزارت سے علاحیدگی اختیار کرنا پڑی۔ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ نٹور سنگھ وجہ بتائو نوٹس کا معقول جواب دے کر کانگریس میں اپنی سابقہ پوزیشن برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے یا کسی نئی سیاسی جماعت سے تعلقات استوار کریں گے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات