|
بھی پوچھا گیا ہے کہ انہوں نے پاٹھک کمیٹی کی رپورٹ افشا ہونے
کے معاملے میں بھارتی وزیر اعظم کے خلاف مراعات شکنی کا جو نوٹس
ارسال کیا ہے اس کا جواز کیا ہے ۔پارٹی کی تادیبی کمیٹی کی رات گئے
منعقد ہونے والی نشست میں ان کی معطلی کا فیصلہ لیتے ہوئے یہ وضاحت
طلب کی گئی ہے
اس میٹنگ میں موتی لال ووہرا،سوشیل کمار شنڈے اور پرنب مکھرجی وغیرہ
نے شرکت کی جبکہ تادیبی کمیٹی کی نشست کی صدارت مسٹر اے کے انٹونی نے
کی ۔تادیبی کمیٹی کا ماننا ہے کہ مسٹر نٹور سنگھ نے ڈسپیلن شکنی کا
ارتکاب کیا ہے چنانچہ انہیں فوری عمل سے معطل کیا جانا چاہئے
ذرائع کی اطلاع کے مطابق نٹور سنگھ کو فی الحال پارٹی سے نکالا نہیں
گیا ہے البتہ انہیں ابتدائی رکنیت سے معطل کرتے ہوئے پارٹی کی جملہ
سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت سے محروم کردیا گیا ہے
خیال رہے کہ سابق بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے 2001 میں اقوام
متحدہ کے تیل برائے خوراک معاملہ کے تحت اپنے صاحب زادہ جگت سنگھ کے
دوست عندلیب سہگل کیلئے عراقی وزیر پٹرولیم کوتیل ٹوکن کی غرض سے
سفارشی مکتوب لکھا تھا جسے پہلے وولکر کمیٹی کی رپورٹ میں زیر موضوع
لایا گیا بعد کو پاٹھک اتھاریٹی نے بھی اس کا ذکر کیا جسے کانگریس نے
بنیاد بناتے ہوئے تادیبی کارروائی کی ہے
دریں اثنا سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے ایک بھارتی خبریہ چینل سے
گفتگو کے دوران ان مراسلوں کی صداقت سے انکار کیا اور کہا کہ میں نے
کبھی ایسے سفارشی خطوط نہیں لکھے ہیں
انہوں نے ان مراسلوں کے نفس مضمون پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ
جن مکتوب کو بنیاد بناتے ہوئے تادیبی کارروائی کی جارہی ہے درحقیقت
اس کا وجود ہی نہیں ہے ۔یاد رہے کہ نٹور سنگھ گذشتہ چالیس برسوں سے
کانگریس کا ہاتھ تھامتے چلے آرہے تھے
اس درمیان انہوں نے پارٹی کے برے دنوں میں بھی اس کا ساتھ دیا
تاہم حال کے دنوں میں ان کی قسمت کا ستارہ اس وقت گردش میں آگیا جب
وولکر کمیٹی کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے خلاف پہلے قلمدان اور
بعد کو منموہن وزارت سے علاحیدگی اختیار کرنا پڑی۔ابھی یہ واضح نہیں
ہوسکا ہے کہ نٹور سنگھ وجہ بتائو نوٹس کا معقول جواب دے کر کانگریس
میں اپنی سابقہ پوزیشن برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے یا کسی نئی
سیاسی جماعت سے تعلقات استوار کریں گے
|