|
بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے مسلمانوں کو
اعتماد میں لینے کیلئے یقین دہانیوں کا جال بننا بھی شروع کر دیا ہے
اس پورے معاملے میں ہندوستان کی سب سے بڑی علما کی انجمن جمیعت علما
کو آلہ کا ر کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے جیسا کہ آثار و قرائن کی
بنیاد پر مبصرین قیاس آرائی کررہے ہیں۔سمجھا جاتا ہے کہ اسی حکمت
عملی کے تحت جمیعت علما کی جانب سے ایک دوروزہ غیر معمولی کانفرنس
نئی دہلی میں منعقد کی گئی جس میں وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیر
داخلہ شیو راج پاٹل اور فروغ انسانی وسائل کے مرکزی وزیر ارجن سنگھ
سمیت ارباب وقت اور دانشوران نے شرکت کی اور دہشت گردی اسباب اور
تدارک کے موضوع پر جم کر اظہار خیال کیا
یہ بات دی گر ہے کہ ان
دانشوران میں اکثریت حکومت کی مداح تھی یا کانفرنس میں شریک افراد
میں بڑی تعداد خود ساختہ قسم کے دانشوروں کی تھی ۔اس کانفرنس کی خاص
بات یہ رہی کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریر کے دوران اقلیتوں بالخصوص
مسلمانوں کو تو نصیحتیں کرنے میں کوئی کور کسر باقی نہیں چھوڑی کہ وہ
حکومت کو انسداد دہشت گردی کے امور میں تعاون دیں اور نئی نسل کو
گمراہ ہونے سے بچائیں
لیکن وزیر اعظم نے انتظامی مشنری کی جانب سے
مسلمانوں کو آئے دن نشانہ بنائے جانے کے تعلق سے تقریبا خاموشی ہی
اختیار کی ۔محض یہ کہہ کر امت مقہور کی اشک سوئی کی گئی کہ وہ اس ذیل
میں مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلی کی کانفرنس جلد طلب کریں گے اور اس
ذیل میں ان سے باتیں کریں گے
خیال رہے کہ ببمئی کے بم دھماکوں کے
بعد ملک بھر میں مسلمانوں کو اس طرح میڈیا میں پیش کیا جارہا ہے مانو
ان کے ذریعہ ہی تخریب پسند ی کی گئی ہو۔ہر چند کہ حکومت یہ کہتی آئی
ہے کہ وہ مذہبی عصبیت کو تفتیش کے دوران حائل ہونے نہیں دے گی تاہم
طرز عمل پوری طرح عصبیت کی آئینہ داری پر مبنی دکھائی دیتا ہے
ایسے
حالا ت کے درمیان وزیر اعظم کا مسلمانوں یا علما کو نصیحتیں کرنا اور
انتظامی مشنری کی بےہودگی پر خاموشی برتنا کئی شکوک اور اندیشے کو
جنم دے رہا ہے
دہشت گردی اسباب اور تدارک کے موضوع پر منعقد ہونے
والی اس کانفرنس کو مبصرین کا ایک طبقہ حکومت کی اعانت میں کی جانے
والی کانفرنس قرار دے رہا ہے
اس کا ماننا ہے کہ جمیعت علما ہند
چونکہ ایک طویل مدت تک کانگریس کی جوتیاں سیدھی کرتی رہی ہے لہذا
ایسے وقت میں جبکہ مسلمانوں میں کانگریس کی شبیہ خراب ہوتی جارہی ہے
،جمیعت کے تعاون سے اس طرح کی کانفرنسیں منعقد کر نا شاید کانگریس
مستقبل کی بہتری کی ضمانت سمجھ رہی ہے
سیاسی امور پر گہری نگاہ رکھنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ لو اور دو
کی سیاست کے تحت کانگریس جمیعت علما کو ایک بار پھر اسی طرح استعمال
کرنا چاہ رہی ہے جیسے کہ آزادی کے بعد 40 برسوں تک راجیہ سبھا کی
ممبری کا لالی پاپ دکھا اور کھلا کر جمیعت کی وفاداری لی جاتی رہی
تھی
|