|
دیا ہے، سمجھا جاتاہے کہ یہ سب کچھ
اس وجہ سے ہو رہا ہے تاکہ آئندہ برس ہونے والے انتخابات میں فتح کا
تمغہ حاصل کیا جاسکے ، جس میں مبصرین کے بقول انہیں سخت دشواریوں کا
سامنا ہے
غالباً یہی سبب ہے کہ آج حکومت یو
پی نے ایک افسر شاہی کے توسط سے یہ بتا کہ اترپردیش کی حکومت کے
ہاتھوں رواں مالی سال کے دوران پرائمری اور جونیئر سطح کے122اسکولوں
کو اقلیتی ادارہ قرار دیا گیا ہے
ان اسکولوں میں طلباء کو رواں
مالی سال کے دوران 118کروڑ روپے کا وظیفہ تقسیم کیا جارہا ہے
ان مدرسوں کے طلباء کو پہلی بار بین
الاقوامی سطح پر تالمل قائم کرنے کے لئے140 مدرسوں میں آئی آئی
ٹی قائم کی جائے گی ، جس سے اقلیتی طلبا اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ
انفارمیشن ٹکنالوجی کے میدان میں قدم آگے بڑھاکر اپنے روزگار
کے مواقع خود پیدا کرنے کے لئے بھی تربیت حاصل کرسکیں
ریاست کی اقلیتی بہبود اور
وقف سے متعلق سیکرٹری چندر پرکاش نے آج افسروں کی ایک میٹنگ میں
ان منصوبوں کو موثر طریقے پر چلانے کی ہدایات دیتے ہوئے یہ اطلاع دی
مسٹر چندر پرکاش نے اس بات پر توجہ
دینے کے لئے کہا کہ اقلیتوں سے متعلق شعبہ کے مدرسوں کی زیر تعلیم
طالبات کو بھی انتظامیہ کی کناودیا دھنےوجنا کے تحت فی طالبہ 20ہزار
روپے انہیں مستحق پائے جانے پر ہی دیا جائے۔ ان مدرسوں میں
عالمی سطح تک کی پاس شدہ طالبات کو ہی یہ سہولت فراہم کی جارہی
ہے
اقلیتی طبقہ کے سماجی، اقتصادی اور
روزگار سے متعلق مسائل کے حل کا راستہ بھی اقلیتوں کی بہبود سے متعلق
محکمہ کے منصوبوں میں پیش کیا گیا ہے، جس کے لئے ضلع رامپور کے
مولانا محمد علی جوہر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے نام سے منسوب9کروڑ 45لاکھ
روپے کی لاگت سےایک ادارہ قائم کیا جارہا ہے
اقلیتوں کی بہبود سے متعلق شعبہ کے
سیکرٹری نے بتایا کہ ریاست میں کول359عربی اور فارسی کے مدارس عطیہ
کی فہرست میں شامل ہیں جن کے اساتذہ کی تنخواہیں اور دوسری چیزوں کی
ادائیگی کی پوری ذمہ داری ریاستی حکومت اٹھارہی ہے
حکومت نے اس کےلئے76.6045لاکھ روپے
کا انتظام کیا ہے۔سال06۔ 2005 کے دوران ریاست کے لکھنوؤ اور غازی
آباد میں حج منزل تعمیر کی گئی ہے۔ جس کے لئے حکومت نے دودو
کروڑ روپے دیئے ہیں
کہنا مشکل ہے کہ یہ اعداد شمار اقلیتوں کو راغب کرنے میں کسی طور
معاون ہو سکے گا آایا نہیں
کیونکہ وزیر اعلی ملائم سنگھ پر
مسلمانوں کا الزام ہے کہ وہ گزشتہ پانچ برسوں تک اقلیتی فرقہ کو
بھولے رہے
اور اب جبکہ انتخابات کا وقت قریب
آگیا ہے تو انہیں اقلیتی معاملات و مسائل سے اچانک دلچسپی ہونے لگ
گئی ہے۔خیال رہے کہ ملک کی اس سب سے بڑی ریاست میں آئندہ سال
انتخابات ہونے ہیں |