|
بازو کی جماعتوں اور سماج وادی
پارٹی نے شدید ناراضگی ظاہر کی اور وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ وہ
ایوان میں آ کر اس سلسلے میں وضاحت دیں
سی پی آئی ایم رہنما محترمہ ورندا کرات
،سماجوادی پارٹی لیڈران شاہد صدیقی اور ابو عاصم اعظمی سمیت درجنوں
لیڈروں نے وقفہ سوالات کے دوران مسلمانوں کو ملک بھر میں ہراساں کئے
جانے کے معاملے پر شدید رد عمل ظاہر کرنا شروع کر دیا اور کہا کہ ایک
جانب حکومت کہتی ہے کہ فرقہ خاص کو مذہبی بنیادوں پر نشانہ نہیں
بنایا جانا چاہئے
تاہم دوسری جانب ملک بھر میں کی جانے
والی کارروائیاں اس بات کو ظاہر کر رہی ہیں کہ مسلمانوں کو قصوروار
قرار دینے کے ارادے سے عمدا گرفتاریاں عمل میں لائی جارہی ہیں
ان رہنمائوں کا کہنا تھا کہ انتظامی
مشنری کی اس حرکت پر مہاراشٹرا کے نائب وزیر اعلی سے جاننے کی کوشش
کی گئی کہ آخر یہ روش کیوں اختیار کی جارہی ہے تو انہوں نے کہا یہ
اقدام وزیر اعظم کے دفاعی مشیر کی ایما پر کی جارہی ہے
ان رہنمائوں کا کہنا تھا کہ اگر واقعتا
یہ اقدام وزیر اعظم دفتر کی ہدایت کی روشنی میں اٹھائے جارہے ہیں تو
اور بھی لائق مذمت ہے لہذا حکومت کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ اس معاملے
پر اپنا مطمح نظر واقف کرے
خیال رہے کہ ملک بھر میں سلامتی کے بے
نظیر انتظامات کے دوران دہلی پولس کو تو دارالحکومت دہلی میں یہاں
کے مسلمانوں کی ٹوپیوں کے نیچے بھی بم تلاش کرتے دیکھا گیا ،ظاہر ہے
ایسی حرکتوں سے اضطراب کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے
چنانچہ اس بے چینی سے جہاں ایک جانب
ملک بھر میں مسلمانوں میں بے چینیاں پائی جارہی ہیں وہیں دوسری طرف
وہ اراکین پارلیمان جو اقلیتی طبقہ کے تئیں دیانتدارانہ سلوک اختیار
کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں ،ان کی جانب سے ایوان میں اس معاملے
پر ردعمل کا ظاہر کیا جانا فطری تھا
اس بیچ سماجوادی پارٹی لیڈر شاہد صدیقی
نے ایک ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ مسلمانوں کی حیثیت اس وقت فٹبال
کی سی ہوگئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا میں کی جانے والی
کاروائیاں یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ اس فرقہ کو ارادتا ہراساں کیا جارہا
ہے اوروہ بھی وزیر اعظم کے دفاعی مشیر کی ہدایت کی روشنی میں
ایسی صورت میں حکومت سے اس کا موقف
جاننا لازم تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اراکین کے اس مطالبے سے کیا
حکومت ہوش میں آئی ؟ اور یہ کہ کسی بھی قسم کی وضاحت دینے کی زحمت
حکومت نے گوارا کی ، تو شاہد صدیقی کا جواب تھا ” نہیں ہماری باتوں
پر حکومت نے کوئی وضاحت نہیں دی ” شاہد صدیقی نے اس امر پر بھی شدید
ناراضگی ظاہر کی کہ ملک میں جگہ جگہ تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے
لوگوں کو بھی بخشا نہیں جارہا ہے اور انہیں بھی پولس تفتیش کے نام پر
اذیت ناکی میں مبتلا کیا جارہا ہے
یاد رہے کہ ابھی حال ہی میں کانگریس کی
حکمرانی والی ایک ریاست میں تبلیغی جماعت کے کارکنوں کو گرفتار کیا
گیا اور انہیں ملک چھوڑنے کے احکامات دئے گئے ،خیال رہے کہ یہ غیر
ملکی تھے اور ٹورسٹ ویزا پر بھارت آئے ہوئے تھے
|