|
قومی مفادات کو اگر کہیں نقصان
پہنچنے کا خطرہ درپیش ہوگا تو ہندوستان امریکہ کے ساتھ کوئی بھی
جوہری معاہدہ نہیں کرے گا
وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے راجیہ
سبھا میں اپوزیشن کی جماعتوں کی تشویش کے درمیان بحث پر جواب دیتے
ہوئے کہا کہ بھارت اس بات کے تئیں پابند ہے کہ اگر امریکہ ماضی کے
قول و قرار سے منحرف ہوتا ہے اور مفاہمت نامہ کی شقوں میں تبدیلی کی
کوشش کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں بھارت اپنے تئیں کوئی بھی فیصلہ
لینے کیلئے آ زاد ہوگا
خیال رہے کہ بدھ کے روز ہی وزیر اعظم نے جوہری ماہرین
کے ساتھ ہند امریکہ نیو کلیائی معاہدہ پر پائی جانے والی ملک گیر
برگشتگی کے حوالے سے صلاح و مشورہ کیا تھا ،جس میں سائنسی ماہرین نے
بھی اپنی بے چینیوں سے وزیر اعظم کو گوش گزار کرایا تھا
آج ایوان
نمائندگان میں وزیر اعظم نے اپنا بیان دیکر اس اضطراب کو دور کرنے کی
ہر ممکن کوشش کی کہ ہندوستان گھاٹے کا کوئی ایسا سودا کرنا نہیں
چاہتا جس سے قومی مفادات کو نقصان ہو
وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارا یہ
موقف بالکل واضح ہے کہ 18 جولائی 2005 کے اس مفاہمت نامہ کی بنیاد پر
ہی ہندوستان کوئی سودا کرے گا جو منموہن بش کی ملاقات کے درمیان طے
پایا تھا اور جس کی توثیق مارچ میں ہوئی ہے
وزیر اعظم کی ان یقین دہانیوں کے باوجود حزب مخالف کی جماعتیں
نامطمئن دکھائی دے رہی ہیں اور اس امر پر ملک گیر سطح پر ہم آہنگی کا
شدید فقدان دکھائی دے رہا ہے
|