|
ماری کی اطلاع جامع مسجد کے شاہی امام
مولانا احمد بخاری کو دی گئی اور وہ بلا تاخیر موقع واردات پر پہنچ
گئے اور پولس سے اس تلاشی کی بابت جاننا چاہا کہ آخر کیوں وہ لوگ
جامع مسجد میں داخل ہوئے ہیں اور کیا تلاش کررہے ہیں
مسلمانوں نے پولیس کی اس کارروائی کو ’تعصب ‘
اور تنگ نظری سے مامور کیا ہے
خبروں میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران پولس کے
ساتھ امام موصوف کی سخت تکرار بھی ہوئی اور موقع پر موجود لوگوں کی
مداخلت کے باعث کسی طرح معاملے کو حل کیا جاسکا جب پولس وہاں سے
بھاگنے پر مجبور ہوئی
اطلاع کے بموجب جامع مسجد کے شاہی امام نے جب
دہلی پولس سے جاننے کی کوشش کی کہ آخر وہ کس بنیاد پر یہاں تلاشی لے
رہے ہیں تو اول اول انہوں نے یہ کہہ کر اس معاملے کو ٹالنے کی کوشش
کی کہ وہ یہاں گھومنے آئے ہیں حالانکہ بعد کو انہوں نے اعتراف کیا کہ
وہ پیپر بم کی تلاش میں یہاں پہنچے تھے
خبروں کے بقول پولس یہاں بم کی تلاش میں آئی
تھی جیسا کہ پولس کے اعلی اہلکاروں کے سامنے بھی پولس کے ان عملوں نے
تسلیم کیا کہ ایک خفیہ اطلاع انہیں موصول ہوئی تھی کہ جامع مسجد میں
پیپر بم رکھا گیا ہے
تلاشی مہم میں شامل پولس کے ذریعہ بغیر اجازت
حاصل کئے جامع مسجد میں داخلے پر ان پولس جوانوں کا موقف یہ تھا کہ
چونکہ انہیں نماز جمعہ کے وقت مسجد میں بم ہونے کی اطلاع ملی ملی تھی
لہذا ایسے وقت میں امام موصوف سے اجازت لینا مشکل تھا کیونکہ وہ اس
وقت مصلے پر تھے اسی بنا پر احتیاط کے تقاضے کو برتتے ہوئے بلا تاخیر
یہ تلاشی لی گئی
اس واقعے کے بعد دہلی پولس کمشنر کے کے پال نے
تلاشی مہم میں شامل سب انسپکٹر عبد الکلیم کو فوری عمل سے معطل کر
دیا ہے اور پورے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیاگیآ ہے
ہندوستان میں یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پولس
عبادت گاہوں میں بموں کی تلاش میں داخل ہوئی ہو۔خصوصا ایسے وقت میں
جبکہ ملک بھر میں مسلمانوں کی حب الوطنی مشکوک ٹھہرائی جارہی ہو
،مسجدوں اور گھروں میں بم تلاش کر نا کوئی چونکا دینے والا واقعہ
نہیں ہے
لیکن د ہلی کی جامع مسجد میں یہ پہلا موقع ہے
جب پولس نے بغیر کسی پیشگی اجازت حاصل کئے تلاشی مہم میں مصروف دیکھی
گئی اور اس پر حیرت تب ہوئی جب امام بخاری کے ذریعہ باز پرس کرنے
پرپولس عملوں کی جانب سے کہا یہ گیا کہ وہ لوگ یہاں گھومنے آئے ہیں
اس واقعے کے بعد دار الحکومت دہلی کے مسلمانوں
میں شدید اضطراب پیدا ہو گیا ہے اور لوگوں کو یہ کہتے سنا جارہا ہے
کہ آزادی کے بعد کے 59 برسوں کے دوران مسلمانوں کے خلاف اس قدر عصبیت
کبھی نہیں دیکھی گئی تھی جیسی کہ اس وقت دیکھنے کو مل رہی ہے
دہلی کے مسلمان پولس کی اس کارروائی کو مذہبی
عصبیت پسندی کا مظہر قرار دینا نہیں بھول رہے ہیں
|