|
بنارہی ہے جو فضائی سفرکے ذریعہ یہاں
پہنچ رہے ہیں
اس کی بدترین مثال آج اس وقت دیکھنے کوملی جب
مجاہد آزادی مولانا اسعد مدنی کے صاحبزادہ اور جمعیۃ علماء ہند کے
ناظم عمومی مولانا محمودمدنی کے بھائی مودود مدنی کوحیدرآباد سے
ممبئی پہنچتے ہی حراست میں لے لیا گیا
انہیں ممبئی پولس نے ائیرپورٹ سے دادر جاتے
ہوئے راستے سے حراست میں لےلیا اورانہیں تھانے لے آئی۔یہ واقعہ آج صبح
تقریباً 10بجے رونما ہوا
مولانا محمود مدنی کے برادر خرمودود مدنی ایک
شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے احمدآباد گئے تھے اور وہاں سے موصوف
آج صبح کی فلائٹ سے ممبئی پہنچے۔ جیسے ہی وہ ڈومیسٹک ایئرپورٹ سے
دادر واقع اپنے سسرال جارہے تھے کہ راستے سے دادرپولس نے انہیں بے
وجہ حراست میں لے لیا۔اطلاع کے مطابق وہ اس وقت دادر پولس اسٹیشن میں
زیرحراست ہیں اورپولس ان سے سخت پوچھ تاچھ کررہی ہے
خبرکے مطابق انہیں صبح سے کچھ کھانے کے لئے
بھی نہیں دیا گیا ہے اور طرح طرح کے سوالات کئے جارہے ہیں خصوصاً
ممبئی بم دھماکوں کے تعلق سے
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ممبئی پولس نے مسلم
فوبیا کی شکارہوکر بے وجہ مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے ارادے سے اس
قسم کی بےہودہ حرکت میںمشغول پائی گئی ہو بلکہ سچائی تویہ ہے کہ
ممبئی کے سلسلے واربم دھماکوںکے بعدسے مستقل وضع قطع سے مسلمانیت کا
اظہار کرنے والے درجنوں افراد روزانہ اسی طرح گرفتار کئے جارہے ہیں
اوران سے لایعنی قسم کے سوالات کیاجانا ممبئی پولس کی معمولات کا حصہ
بن چکا ہے
خیال رہے کہ ابھی حال ہی میں وزیراعظم
ڈاکٹرمنموہن سنگھ نے جمعیۃ علماء کے ناظم عمومی مولانا محمودمدنی کی
ایماء پرطلب کی گئی علماء کی ایک قومی کانفرنس کے دوران یہ یقین
دہانی کرائی تھی کہ ممبئی بم دھماکوں کے تعلق سے کی جانے والی تفتیشی
کارروائی کے دوران بے قصوروں کو نشانہ نہیں بننے دیا جائے گا
لیکن یہ یقین دہانی زبانی جمع خرچ کی حیثیت کی
حامل بنی ہوئی ہے اورآج جب جمعیۃ کے ناظم عمومی کے بھائی مولانا
مودود مدنی کو ممبئی ایئرپورٹ سے سسرال جاتے ہوئے حراست میں لیا گیا
تویہ بات کھل کرسامنے آگئی کہ ممبئی پولس تفتیش کے نام پر اپنے
اختیارات کا بے جااستعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف مذہبی عصبیت کا
جو نمونہ پیش کررہی ہے اس میں اسے یہ بھی تمیز نہیںہے کہ کسے حراست
میں لیاجائے اور کیوں؟
سرکردہ افراد کو بھی جس طرح پولس کی زیادتیوں
کا شکارہونا پڑرہا ہے اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی ہے کہ ممبئی
پولس کی کارروائی کا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں کو ہراساں کرنا،
انہیں ایذا پہنچانا اور بے جا تشدد کا نشانہ بنانا رہ گیا ہے
خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ممبئی پولس
اسرائیلی خفیہ ایجنسی ’موساد‘ کی طرح جاسوسی کے دوران مسلمانوں کے
تعلق سے معلومات جمع کرنے میں مصروف ہے اطلاع یہ بھی ہے کہ اس کے تحت
ممبئی پہنچ رہی فلائٹوں کے مسافروں کی فہرست میں سے مسلمانوں کی
احوال وکوائف جاننا اور اس بنیاد پرمسلمانوں کو نشانہ بنانا ممبئی
پولس کے روزانہ کی معمولات کا حصہ بن چکا ہے
خیال رہے کہ مودود مدنی کے ساتھ بھی پولس نے
وہی کیا جو عام مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے ارادے کے تحت کیا جاتا
رہا ہے ۔یعنی صبح کے تقریبا 10بجے سے رات کے 8بجے تک سخت پوچھ گچھ کے
بعد آخر کا اس وضاحت کے ساتھ کہ پولس سے غلط فہمی ہو گئی تھی اور یہ
کہ ممبئی پولس اپنی شبیہہ سدھارے گی ،انہیں رہا کر دیا گیا |