|
اپنی نظر بندی سے
قبل انہوں نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ
مذاکرات کی مخالفت نہیں ہے لیکن بھارت اٹھاون برسوں سے کشمیریوں پر
ظلم کر رہا ہے اس لیئے بھارت کے ساتھ مذاکرات کا بے فائدہ ہیں
علی گیلانی کا کہنا تھا کہ بھارت
اگر فوری طور پر کشمیر سے فوجیں واپس بلاتا ہے اور ہزاروں کشمیری
قیدیوں کو رہا کرتا ہے اور بامعنی مذاکرات کےلیئے تیار ہے تو بھارت
سے مذاکرات ہو سکتے ہیں
انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت
کشمیریوں کو اپنے کالے قانون کے تحت دبانا چاہتا ہے اور بھارتی فوج
اور سیکورٹی فورسز انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں میں ملوث ہیں
واضع رہے بھارت کے زیر انتظام کشمیر
میں بھارتی فوجیوں پر الزام ہے کہ ان کے ہاتھوں سینکڑوں شہریوں کا
قتل ہوا ہے جبکہ بھارتی فوجیوں پر یہ الزام عائد بھی کیا جاتا ہے کہ
انہوں نے درجنوں خواتین کی عصمت دری کی ہے
گذشتہ مہینے ایسے دو واقعات یکے بعد
دیگرے سامنے آئے تھے جس میں بھارتی فوجیوں نے دو طالبات کی آبرو ریزی
کی تھی
سید علی گیلانی نے اپنی نظر بندی سے
قبل ایسے کشمیری دھڑوں پر تنقید کرتے ہوئے جو بھارت کے ساتھ یکطرفہ
مذاکرات پر رضامند ہیں کہا کہ انہیں تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیئے
کیونکہ بھارت نے اب تک مذاکرات میں ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے ہزاروں
کشمیریوں کو ہلاک جبکہ ہزاروں کو جیلوں میں ڈال دیا ہے
|