|
اعظم کا یہ خطاب ایک ایسے وقت میں خاصا اہمیت کا حامل سمجھا
جاتا ہے جبکہ قومی سطح پر دہشت پسندانہ سرگرمیوں کے خطرات سے پورے
ملک میں یوم آزادی کے موقع پر ریڈ الرٹ جاری ہے اور خود وزیر اعظم
ڈاکٹر منموہن سنگھ جس تاریخی لال قلعہ سے دہشت گردوں کو چیلنج کر رہے
تھے
اسے بھی مسلح افواج کی چھائونی میں عملا کچھ اس طرح تبدیل کردیا گیا
تھاکہ وہاں پرندوں کو بھی پر مارنے کیلئے افواج کی اجازت ضروری تھی
سنگینوں کے سائے تلے قوم سے خطاب کے دوران بھارتی وزیر اعظم نے
تخریبی کارروائیوں میں ملوث جنگجوئو ں کو کھلا چیلنج کرتے ہوئے کہا
کہ ہندوستان کو کوئی جھکا نہیں سکتا اور قوم و ملک کا مانوس کبھی
سرنگوں نہیں ہوسکتا
وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کو خطرات سے محفوظ رکھنے کے ارادے سے کی
جانے والی کارروائیاں اطمینان بخش ہیں اور ہم ملک و قوم کی ترقی و
خوش حالی کیلئے پورے عزم و استقلال کے ساتھ آگے کا سفر طے کر رہے ہیں
وزیر اعظم نے سرحد پار سے جاری دہشت گردی پر سخت موقف اختیار کرتے
ہوئے کہا کہ دوستانہ روابط کی بحالی اور دو طرفہ تعلقات کو نئی جہت
دینے کیلئے بھارت ہمیشہ نیک نیت ثابت ہوا ہے تاہم ہم اس ذیل میں ہمیں
یہ دیکھنا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کو کچلنے پر کس حد تک یقین رکھتا
ہے
بھارتی وزیر اعظم نے واضح لفظوں میں یہ اشارہ دے دیا کہ مستقبل میں
پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا مکمل دار ومدار دہشت گردی
سے متعلق اس کے مطمح نظر پر منحصر ہوگا
منموہن نے کہا کہ ہم نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ دہشت گردی اور
تخریب پسندی کے خلاف ہماری لڑائی اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی اور
اس راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ہم عبور کریں گے
منموہن نے واضح لفظوں میں یہ بھی کہا کہ ہمارے عزائم کو دہشت گردانہ
واقعات متزلزل نہیں کرسکتے اور ہم اپنے ملک کو مکمل تحفظ فراہم کرنے
کے ارادے سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مقابلے کیلئے تیار ہیں
انہوں نے ملک کی سالمیت کا ذ کر کرتے ہوئے بھارتی مسلح افواج کی
کارگذاریوں کو لائق تحسین قرار دیا اور کہا کہ بھارت اپنے آہنی عزائم
پر پوری طرح کاربند رہا ہے اور مستقبل میں بھی رہے گا
|