|
روز یہاں امریکہ میں بھارت کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل کو کامیاب
نانے کے لئے سرگرم بھارتی گروپوں کی جانب سے دیئے گئے ظہرانہ سے خطاب
کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ بش انتظامیہ
بھارت امریکہ سول نیوکلیئر ڈیل کی کانگریس سے منظوری کے لئے سخت محنت
کررہی ہے
تاہم واشنگٹن اور اس کے دیگر تینوں بڑے اتحادی برطانیہ ، فرانس اور
روس بھارت کی نیوکلیئر کلب میں شمولیت کے مخالف ہیں
انہوں نے کہا کہ لہذامیں واضع کردینا چاہتی ہوں کہ امریکہ نیوکلیئر
ہتھیاروں کی ریاست کے طور پر بھارت کی نان پرولیفریشن ٹریٹی این پی
ٹی میں شمولیت کی حمایت اور تعاون نہیں کریگا
انہوں نے کہا کہ سول نیوکلیئر ڈیل کا پہلا مقصد یہ ہے کہ بھارت کو
ایٹمی عدم پھیلاو کے دھارے میں لاتا ہے
رائس نے تنقید کرنے والوں کی تنقید کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ اس
سول نیوکلیرء ڈیل سے بھارت نیوکلیئر ہتھیاروں کا تیزی سے پھیلاو کے
قابل نہیں رہے گا اور اس ڈیل کے تحت بھارت اپنے موجودہ دو تہائی سول
نیوکلیئر ری ایکٹرز کی آئی اے ای کی زیر نگرانی میں دیگا
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں بھارت کو نیوکلیئر کلب میں لانے کی
پوزیشن میں نہیں کیونکہ فرانس ، برطانیہ اور روس کے علاوہ آئی اے ای
اے کے سربراہ محمد البرادی ایک نیوکلیر ہتھیار رکھنے والی ریاست کو
اس کلب میں شامل کرنے کے حامی نہیں
|