|
جنہیں شبہہ کی بنیاد پر کل گرفتار
کیا گیا تھا
حالانکہ ممبئی واقعے کے
سلسلےمیں ہزاروں افراد کو اب تک حراست میں لیا جاچکا تھا تاہم کسی
کےخلاف باضابطہ یہ پہلا مقد مہ درج ہوا ہے جس میں گرفتار تمام ملزمان
مسلم ہیں
انسداددہشت گردی اسکواڈ کے سربراہ
کے پی رگھوونشی کہتے ہیں کہ پولیس نے تین افراد کو گیارہ جولائی کے
ٹرین بم دھماکوں کے سلسلہ میں گرفتار کیا،ان پر تعزیرات ہند کی دفعات
302, 306 326 کے تحت معاملہ درج کرنے کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا
گیا جہاں سے ریمانڈ حا صل کرلیا گیا ہے
اب یہ ملزمان 31 جولائی تک پولیس
ریمانڈ میں رہیں گے۔بہار پولیس اور ممبئی پولس کے دہشت گرد مخالف
اسکوائر نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے تین افراد ممتاز احمد چودھری
(نوی ممبئی) محمد کلام انصاری اور محمد خلیل شَیخ کو گزشتہ روز
گرفتار کیا تھا
ان تینوں کو آج سخت حفاظتی انتظامات
میں سینٹرل ممبئی کی مزگاوں میں ایڈیشنل چیف میٹروپالیٹن مجسٹریٹ کی
عدالت میں پیش کیا گیا۔اس سے قبل ممبئی میں حال ہی میں ہوئے بم
دھماکوں کی تفتیش میں اہم پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے پولس نے کہا
تھا دو مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کے بعد آج صبح خصوصی طیارے سے
ممبئی لایاگیاہے
پولسنےبتایا کہ محمد کلام اور محمد
خلیل کو ممبئی پولس کے ساتھ ایک مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا۔
ان دونوں مشتبہ افراد کو کل رات گئے پٹنہ لایا گیا
یہاں سے آج صبح خصوصی طیارے سے
دونوں کو ممبئی لے جایا گیا ۔ان دونوں کو آج دن میں ممبئی کی عدالت
میں پیشی کے بعد ریمانڈ حاصل کیا گیا بعد ازاں اب ان سے پوچھ تاچھ کی
جارہی ہے
ازیں قبل محمد اکرم نامی ایک مشتبہ
شخص کو گیا کے ڈنگرا گاوَں سے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ میسور کے ایک
مدرسہ میں مدرس ہے اور اخبارات میں شائع ایک اسکیچ سے اس کی شکل کافی
ملتی ہے
مدھوبنی سے ملی اطلاع کے مطابق محمد
کلام باسوا پٹی تھانے دیودھا گاوَں کا رہنے والا ہے۔پولس کا دعویٰ ہے
کہ وہ دھماکہ خیز مادہ کے رکھ رکھاوَ اور استعمال میں ماہر ہے اور اس
نے پاکستان میں تربیت لی تھی۔انٹلی جنس بیورو کے سراغ رسانوں، ممبئی
اور بہار پولیس اور دہشت گرد مخالف اسکواڈ کے افسران نے آدھا کلو
بارود اور موبائل فون برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے
پولس کہتی ہے موبائل فون کے ریکارڈ
سے پتہ چلتا ہے کہ بم ممبئی دھماکوں کے روز اس کے پاس ممبئی سے متعدد
کالیس آئی تھیں۔ اس کے قبضے سے ایک ٹیلی فون ڈائری بھی برآمد کرنے کی
بات کہی گئی ہے
پولس کے بقول محمد کلام سے پوچھ
تاچھ کے دوران ایک مشتبہ محمد خلیل کا نام سامنے آیا اور اسے بلوہی
تھانہ کے ململ گاوَں سے گرفتار کیا گیا۔ یہ مسلم غلبہ والا علاقہ ہے
اور یہاں رہنے والے ہر کنبہ کا کوئی نہ کوئی فرد ہجرت کرکے پاکستان
جاچکا ہے۔ دیودھا اور ململ گاوَں ہند نیپال سرحد پر واقع ہے
خیال رہے کہ ممبئی بم دھماکہ کی ذمہ
داری قبول کرنے کے ایک دعویدار سُمیت تامر کو پولس نے بھوپال سے
19جولائی کو گرفتار کیا تھا۔جس نے خود کو لشکر قہار کا سربراہ قرار
دیتے ہوئے ایک ای میل پیغام ارسال کیا تھا۔یہاں یہ امربھی پیش نظررہے
کہ سُمیت تامرکی گرفتاری کے بعد پولس کا کہنا تھا کہ مذکورہ شخص نے
شرارت آمیز ای میل ارسال کیا تھا اور یہ کہ وہ کسی شدت پسند تنظیم سے
تعلق نہیں رکھتا ہے
سُمیت تامر نے کیا واقعہ شرارت
انگیزی کی یا حقیقت میں اس کا کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق ہے،یہ بات
وثوق کے ساتھ کہنا شاید بلاتحقیق نامناسب سی بات ہوگی
پولس کے ذریعہ گرفتا ر افراد کے
سلسلے میں بھی وثوق کے ساتھ کچھ بھی کہنا مشکل ہی ہو گا کہ واقعی یہ
لوگ اس معاملے سے تعلق رکھتے بھی ہیں آیانہیں۔کیونکہ کسی بھی شخص کی
محض گرفتاری سے یہ معاملہ حل نہیں ہوسکتا کیونکہ ایسے الزامات اور
گرفتاریاں تو آئے دن عمل میں لائی جاتی رہتی ہیں تاہم ثبوت و شواہد
کی کمی کے باعث بیشتر بری بھی ہوجاتے ہیں |