Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Friday, 21 July 2006 00:32 (PST)اشاعت

بھارت کے صدر کو دھمکی آمیز ای میل، سیکورٹی الرٹ

شاہد الاسلام

اردوسروس ڈاٹ نیٹ نئی دہلی

لشکر قہار نامی تحریک کا نام اس سے قبل ایک ای میل میں استعمال کیا گیا ہے

ممبئی کے سلسلے وار بم دھماکوں کے بعد شروع ہونے والے ای۔ میل وار کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ اب اس صف میں بھارتی صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام بھی شامل ہوگئے ہیں جنہیں دھمکی آمیز ای میل ارسال کیا گیا ہے

ایوان صدر نے آج اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر اے پی جے عبد الکلام کے نام ایک ای،میل پیغام موصول ہوا ہے جس میں نامعلوم شخص نے ہندوستانی صدر کو جان سے مار ڈالنے کی دھمکی دی ہے

اس ای میل دھمکی کے بعد حفاظتی دستے کے اعلیٰ اہلکاروں کی نیندیں اڑ گئی ہیں اور پیغام ارسال کرانے والوں کے احوال و کوائف جاننے کیلئے حکام نے ایڑی چوٹی ایک کر دی ہے

ایوان صدر کے ذرائع نے بتایا کہ یہ دھمکی آمیز مراسلہ صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام کے سرکاری استعمال والے ویب سائٹ ” پریسیڈنٹ آف انڈیا ڈاٹ نک ڈاٹ ان ” پر موصول ہوا ہے

ذرائع کے بقول اس دھمکی کے بعد ایوان صرد کے حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دئے گئے ہیں

حکام کے بقول دھمکی دینے والے شخص کی شناخت کیلئے ماہرین کی ایک ٹیم کو بھی لگایا گیا ہے تاکہ مذکورہ کمپیوٹر کی نشاندہی کی جاسکے اور اس بنیاد پر اس شخص کا تعاقب کرنا آسان ہوجائے

خیال رہے کہ ماہرین یاہو پورٹل سے ارسال اس دھمکی آمیز ای ۔میل کا پیچھا کرتے ہوئے اس کمپیوٹر تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں جس سے یہ پیغام ای میل کیا گیا ہے

 خیال رہے کہ ممبئی کے بم دھماکوں کے بعد سے مستقل پولس اور حفاظتی دستوں کو ای میل اور فون کے ذریعہ بے بنیاد پیغامات ارسال کرتے ہوئے ہراساں کیا جاتا رہا ہے

ابھی کل ہی بھوپال میں پولس نے اس شخص کو دھر دبوچا جس نے ایک ای میل پیغام ارسال کرتے ہوئے ممبئی بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی ۔اور خود کو لشکر قہار سے وابستہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان سلسلے وار بم دھماکوں کیلئے لشکر قہار نامی تنظیم ذمہ دار ہے جس نے 16 افراد کو ان دھماکوں کیلئے استعمال کیا تھا۔جس شخص نے ای میل کے ذریعہ سنسنی خیز انکشاف کیا تھا وہ کسی اسلامی شدت پسند گروہ سے متعلق نہیں تھا بلکہ اس نے اپنا نام سومت بتا یا

پولس نے اس فرد کو گرفتار تو کر لیا تاہم اب یہ کہا جارہا ہے کہ سمت نے محض سنسنی پھیلانے کیلئے یہ حرکت کی تھی

یہاں یہ امر بھی کم دلچسپی سے خالی نہیں کہ ممبئی بم دھماکون کے بعد سے اب تک پولس کو بم سے متعلق ایک درجن سے زائد ٹیلی فونک اور ای میل پیغامات موصول ہو چکے ہیں جن میں سے کسی ایک کا بھی حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات