|
سنگھ سے ملاقات کی اور ان سے استدعا کی کہ وہ مسلمانوں کے
مابین پائی جانے والی اس اضطرابی کیفیت کو دور کرنے کی کوشش کریں جو
ممبئی بم دھماکوں کے بعد پولس چھاپے کے تعلق سے پیدا ہو کر رہ گئی ہے
وزیر اعظم سے ملاقات کرنے والے اس نمائندہ وفد میں کانگریس کے علاوہ
راشٹریہ جنتادل اور سماج وادی پارٹی کے علاوہ کئی دیگر اہم پارٹیوں
کے رکن پارلیمان بھی شامل تھے جنہوں نے ممبئی کے سلسلے وار بم
دھماکوں کے بعد ملک میں پائی جانے والی اس دہشت کا ذکر کیا جو
بالعموم مسلم فرقہ کے مابین دیکھنے کو مل رہی ہے
اراکین پارلیمنٹ نے ڈاکٹر منموہن سنگھ سے گزارش کی کہ وہ اس معاملے
پر سخت نوٹس لیں کہ مہاراشٹرا میں اس سانحے کے بعد اقلیتی فرقہ کی آ
بادی کے گھروں کی گنتی کیوں کی جارہی ہے
وزیر اعظم نے کہا کہ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ انتہائی مذموم عمل ہے
،جس کے جواب میں مسلم اراکین نے کہا کہ واقعتا اس وقت مہاراشٹرا میں
یہی صورتحال پیدا ہوکر رہ گئی ہے جس سے مسلمانوں کے پورے علاقے میں
دہشت کا ماحول ہے
نمائندہ وفد کے اصرار پر ہرچند کہ وزیر اعظم نے اس ذیل میں واضح یقین
دہانی کرائی ہے کہ وہ فی نفسہ امور داخلہ کے وزیر اور مہارشٹرا کے
وزیر اعلی سے رابطہ کریں گے تاہم ایسا نہیں محسوس ہوتا کہ اراکین
پارلیمان کی بیچینیوں کے مداوے میں وزیر اعظم کی یہ یقین دہانیاں بہت
زیادہ موثر ثابت ہو سکیں گی
خیال رہے کہ ممبئی کے سلسلے وار بم دھماکوں کے بعد مسلم فرقہ کی جانب
سے مسلسل یہ الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں کہ مقامی پولس اور تفتیشی
ایجنسیاں دوران تفتیش ان کے ساتھ نازیبا سلوک ہی نہیں اختیار کر رہی
ہیں بلکہ ان کا طریقہ کار بے ہودگی کے سارے خط فاصل کو عبور کرنے سے
بھی چنداں گریزاں نہیں رہی ہے لیکن دوسری جانب حکومت اور خود وزیر
اعظم بار بار اس امر کا اعادہ کرتے رہے ہیں کہ تفتیشی امور میں کسی
بھی قسم کا امتیازی سلوک اختیار کیا جاتا رہا ہے
مسلم فرقہ کی اس شکایت کا اگر جائزہ لیا جائے تو بات یہی سمجھ میں آ
تی ہے کہ تفتیش کے عمل کے دوران حکام کی یہی کوشش ہوا کر تی ہے کہ بے
قصوروں کو کیسے قصور وار بنا کر پیش کیا جائے
اس ذیل کا ایک دلخراش پہلو یہ بھی ہے کہ جن لوگوں پر شکوک کی بنیاد
پر مقدمے عائد ہوئے ہیں انہیں دفاع کیلئے وکیلوں کی خدمات بھی فراہم
نہیں ہو پارہی ہیں کیونکہ بالعموم وکیلوں نے یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ
ان مقدموں میں وہ دفاعی فریضہ نہیں انجام دیں گے
|