|
قبائلی افراد کو اغوا کرلیا۔ خبروں کے مطابق جانی نقصان میں
مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ شدید طور پر زخمی ہونے والے 31 افراد ہمسائیہ
ریاست آندھرا پردیش کے بدر چلم میں واقع ایک اسپتال لے جائے جارہے
ہیں
پولس ذرائع نے بتایا کہ ممنوعہ کیمونسٹ پارٹی آف انڈےا (ماونواز) کے
مسلح کےڈروں نے ایرابور ریلیف کیمپ پر حملہ کردیا جہاں تقریباَہزار
دیہاتی پناہ لئے ہوئے تھے۔ یہ افراد نکسلوں کی دھمکی کی وجہ سے یہاں
قیام پذیر تھے۔جگدل پور میں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پپلز
لبریشن گوریلا آرمی (بی اےل جی اے) کے افراد نے 15 افراد کو خنجر
مارکر جبکہ دو افراد کو گولی مار کر ہلاک کردیا
نکسلوں نے300مکانات کو نذرآتش کردیا جس میں پانچ افراد کی موت
ہوگئی
ریاستی حکومت نے 65 ہزار افراد کےلئے جنوبی بستر علاقہ میں
راحتی کیمپ قائم کئے تھے۔ نکسلی انتہاپسندوں کے خوف کی وجہ سے یہ
افراد اپنے گاوں کو چھوڑ کر ان کیمپوں میں پناہ لے رکھی
ہے۔تاہم ، سی پی آئی (ماو ¿نواز) کے کےڈروں نے ان ریلیف کیمپوں کو
نشانہ بنانا شروع کردیاہے اور لوگوں کو اپنے گاو ں واپس جانے کےلئے
مجبور کررہے ہیں
پولیس ذرائع نے بتایا کہ سنٹرل ریزور پولیس فورس (سی آر پی
ایف) کے جوان ریلیف کیمپ کے نزدیک تعینات تھے۔ انہوں نے جوابی فائرنگ
کی جس کے بعد جھڑپ شروع ہوگئی
افسران جائے وقوعہ کےلئے روانہ ہوگئے ہیں اورزخمیوں کو ابتدائی طبی
امداد فراہم کرنے کےلئے اقدامات کئے جارہے ہیں
دریں اثناءچھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ امن سنگھ نے آج اپنی ریاست میں
نکسلوں کے تازہ حملے کی مذمت کی ہے۔ اس حملے میں 25 افراد ہلاک اور
150 سے زائد زخمی ہوگئے۔انہوں نے یہاں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے
ہوئے کہا کہ ’میں نے اس معاملے پر وزارت داخلہ سے بات چیت کی ہے‘
ڈاکٹر سنگھ گیارویں پانچ سالہ منصوبے کے مسودے کی تیاری کے لئے صلاح
و مشورہ کرنے کے غرض سے یہاں آئے ہوئے ہیں
انہوں نے بتایا کہ فوج کےہیلی کاپٹر زخمیوں کو اسپتالوں میں
پہونچانے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈائرکٹر جنرل پولیس
کونکسلوں کے خلاف فوراََ کارروائی کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ انہوں
نے مزید بتایا کہ جوابی کارروائی میں 4 نکسلی مارے گئے ہیں
|