|
دیگر احوال و کوائف ارسال کرادئے گئے ہیں
وزیر اعظم دفتر نے آج صاف لفظوں میں اس خبر کی تردید کی ہے کہ سابق
وزیر خارجہ نے ارسال کردہ خط میں کوئی نیا انکشاف کیا ہے یا یہ کہ اس
مراسلے میں ” امریکی جاسوس ” کا نام ظاہر کیا گیا ہے
جاسوسی کے تعلق سے کل ہی سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے کہا تھا کہ
دو اہم بار جب وزیر اعلظم سے رابطے کی کوشش ناکام رہی اور پی ایم او
کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا تو انہوں نے امریکی جاسوس کے وہ
احوال و کوائف وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو بھیج دئے جو ان کے پاس
موجود تھے
وزیر اعظم کے میڈیا اڈوائیزر کی باتوں کو درست مانا جائے تو اس کا
مطلب یہ ہےکہ سابق وزیر خارجہ کے ذریعہ ارسال کردہ مراسلے میں ایسا
کچھ بھی نہیں ہے جو میڈیا کی خبروں سے مختلف ہو
سنجئے بارو کا ماننا ہے کہ وزیر اعظم کو اطلاعات کی فراہمی کے نام پر
جو معلومات دستیاب کرائی گئی ہیں ،وہ مکمل طور پر میڈیا کی خبروں کی
زینت بنتی رہی ہیں
یاد رہے کہ جسونت سنگھ نے بھارتی وزیر اعظم کے دفتر میںماضی میں
جاسوس ہونے کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ سابق وزیر اعظم
آنجہانی نرسمہا رائو کے دور حکمرانی میں ایک نوکر شاہ بھارتی جوہری
راز امریکہ کو منتقل کرتا رہا ہے
سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ کے ذریعہ پی ایم او کے تعلق سے کہی گئی
باتوں نے ہندوستانی بساط سیاست کو گویا ایک طرح سے متزلزل کر دیا اور
ہر جانب سے پی ایم او پر انگلیاں اٹھنے لگ گئیں
مگر جب وزیر اعظم نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے جسونت
سنگھ کو جاسوس کا نام بتانے کو کہا تو جسونت کے یہ انکشافات ان کی
گردن کا پھندا بن گئے اور اب سمجھا جاتا ہے کہ جسونت اس معاملے مین
ایسے الجھ سے گئے ہیں کہ انہیں اپنا وقار اور اعتبار بر قرار رکھ
پانا بھی مشکل ہو گیا ہے
|