|
زعفرانی پرچم تھام کر ” بھگوان سمان ” رہنما
بالا صاحب ٹھاکرے کی اہلیہ مینا تائی کے مجسمے کی مبینہ بے حرمتی کے
خلاف سڑکوں پر مظاہرے کیلئے جمع ہوگئی
بال ٹھاکرے کے کارکنوں نے عروس البلاد
کی تمام اہم شاہراہوں پر سے گزرنے والی بسوں اور کاروں کو نذر آتش
کرنا شروع کر دیا
شیو سینا ورکروں کا الزام ہے کہ نا معلوم
افراد نے ان کی ”ماتاسمان” دیوی کے مجسمہ کی بے حرمتی کی ہے لہذا وہ
احتجاج درج کرانا اپنااخلاقی حق سمجھتے ہیں
اس درمیان مہاراشٹرا کے مسلم اکثر یتی علاقے
میں حکام نے سیکورٹی سخت کردی تھی تاکہ شرپسندوں کی حیوانیت فرقہ
وارانہ رخ نہ لےلے،اس کے باوجود بھیونڈی سانحہ سے لرزاں عروس البلاد
کے مسلمانوں کے کئی تجارتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا
شیو سینا کے کارکنوں نے متعدد مسلم
اکثریتی علاقوں میں پت تشدد کارروائیاں کی گئیں
اس درمیان مہاراشٹرا پولس کا کردار کسی بڑے
تماش بین سے کم نہیں تھا اور اعلیٰ پولس حکام بھی مجبور محض بنے
دکھائی دے رہے تھے
مہاراشٹرا کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ شیو سینا
سربراہ بالا صاحب ٹھاکرے کی اہلیہ مینا تائی کے مجسمہ کی بے حرمتی کا
یہ پورا معاملہ ایک منظم سازش کا حصہ ہے جس کی وساطت سے بھیونڈی
قبرستان کے تنازعے سے رخ موڑنے کی کوشش کی جار ہی ہے
|