Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Friday, 07 July 2006 20:35 (PST)اشاعت

سو مسلمانوں پر پولیس اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ

شاہد الاسلام

اردو سروس ڈاٹ نیٹ نئی دہلی

مظاہرے کے دوران دو پولیس اہلکار جبکہ دو شہری فائرنگ سے ہلاک

ممبئی کے بھیونڈی علاقے میں گزشتہ 5 جولائی کی شب کو پھوٹ پڑنے والے فساد کے بعد جہاں امن و امان بحال کرنے کی کوشش کی جارہی تھی وہیں اب اس علاقے کے مسلمانوں کے درمیان بڑے پیمانے پر خوف اور احساس عدم تحفظ پیداہوگیا ہے کیونکہ

پولس حکام نے علاقے کے زائد از 100 مسلم افراد پر دو پولس اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ دائر کر دیا ہے اور آج رات سے ان کی گرفتاری کا عمل بھی شروع ہونے والا ہے

ممبئی کے علاقے  بھیونڈی میں پولیس اہلکاروں سمیت چار ہلاک

خیال رہے کہ یہاں5 جولائی کو قبرستان کی زمین پر غاصبانہ قبضے کے خلاف مسلمانوں نے احتجاج شروع کردیا تھا کیونکہ پولس نے مذکورہ زمین پر پولس اسٹیشن کی جبری تعمیر کے عمل کی شروعات کر دی تھی

پولس فائرنگ کے نتیجے میں دو مسلم افراد جان بحق ہوگئے تھے

جبکہ اس فساد کے دوران دو پولس والے بھی ہلاک ہوگئے  تھے جن کے قتل کے تعلق سے درج ہونے والے مقدمے کی بنائ پر مقامی مسلمانوں کے مابین احساس عدم تحفظ پایا جارہا ہے

پولس نے تقریبایک طرفہ کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے اپنے دو جوانوں کے قتل کے الزام میں 100 سے زائد افراد کے خلاف مقدمے درج کیے ہیں وہیں فساد کو ہوا دینے کے الزام کے تحت جن دیگر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمے درج کئے گئے ہیں ان کی مجموعی تعداد 100سے زائد ہے

اس فساد کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مقامی پولس نے رضا اکیڈمی کے صدر شکیل رضا اور اس تنظیم کے ایک دیگر رکن پر بھی مقدمہ دائر کیا ہے

بتایا جاتا ہے کہ رضا اکیڈمی نے مسلمانوں کو اشتعال سے باز رکھنے کیلئے اپنی بھر پور صلاحیت کا مظاہرہ کیا تھا ،جس کے ”انعام” کے طور پر انہیں بھی اس مقدمے میں نامزد ملزم بنایا گیا ہے

بھیونڈی کے مسلمانوں کے مابین خوف ودہشت اس وجہ سے بھی بالعموم پا یا جا رہا ہے کیونکہ پولس نے اس فساد کے تعلق سے جو مقدمات اب تک درج کئے ہیں ان میں 2500سے زائد افراد کو  ”نامعلوم ملزمین” کے طور پر اپنی فہرست میں پولس نے جگہ دی ہے

یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ پولس اس معاملے میں کسی بھی شخص کو گرفتار کرتے ہوئے سلاخوں کے پیچھے ڈال سکتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ بعد کو جرم ثابت کرنے میں ناکامی کے بعد ایسے ملزمین کی رہائی ہوجائے

تاہم مسلمانوں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ  جن مسلمانوں کو پولس نے اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا ان کی سرگرمیوں کو بھی غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش جاری ہے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات