|
پولس حکام نے علاقے کے زائد از 100
مسلم افراد پر دو پولس اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ دائر کر دیا ہے اور
آج رات سے ان کی گرفتاری کا عمل بھی شروع ہونے والا ہے
ممبئی کے علاقے
بھیونڈی میں پولیس
اہلکاروں سمیت چار ہلاک
خیال رہے کہ یہاں5 جولائی کو
قبرستان کی زمین پر غاصبانہ قبضے کے خلاف مسلمانوں نے احتجاج شروع
کردیا تھا کیونکہ پولس نے مذکورہ زمین پر پولس اسٹیشن کی جبری تعمیر
کے عمل کی شروعات کر دی تھی
پولس فائرنگ کے نتیجے میں دو مسلم
افراد جان بحق ہوگئے تھے
جبکہ اس فساد کے دوران دو پولس والے
بھی ہلاک ہوگئے تھے جن کے قتل کے تعلق سے درج ہونے والے مقدمے
کی بنائ پر مقامی مسلمانوں کے مابین احساس عدم تحفظ پایا جارہا ہے
پولس نے تقریبایک طرفہ کارروائی کا
آغاز کرتے ہوئے اپنے دو جوانوں کے قتل کے الزام میں 100 سے زائد
افراد کے خلاف مقدمے درج کیے ہیں وہیں فساد کو ہوا دینے کے الزام کے
تحت جن دیگر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمے درج کئے گئے ہیں ان کی
مجموعی تعداد 100سے زائد ہے
اس فساد کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے
کہ مقامی پولس نے رضا اکیڈمی کے صدر شکیل رضا اور اس تنظیم کے ایک
دیگر رکن پر بھی مقدمہ دائر کیا ہے
بتایا جاتا ہے کہ رضا اکیڈمی نے
مسلمانوں کو اشتعال سے باز رکھنے کیلئے اپنی بھر پور صلاحیت کا
مظاہرہ کیا تھا ،جس کے ”انعام” کے طور پر انہیں بھی اس مقدمے میں
نامزد ملزم بنایا گیا ہے
بھیونڈی کے مسلمانوں کے مابین خوف
ودہشت اس وجہ سے بھی بالعموم پا یا جا رہا ہے کیونکہ پولس نے اس فساد
کے تعلق سے جو مقدمات اب تک درج کئے ہیں ان میں 2500سے زائد افراد کو
”نامعلوم ملزمین” کے طور پر اپنی فہرست میں پولس نے جگہ دی ہے
یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ پولس اس
معاملے میں کسی بھی شخص کو گرفتار کرتے ہوئے سلاخوں کے پیچھے ڈال
سکتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ بعد کو جرم ثابت کرنے میں ناکامی کے بعد
ایسے ملزمین کی رہائی ہوجائے
تاہم مسلمانوں کی طرف سے کہا جا رہا
ہے کہ جن مسلمانوں کو پولس نے اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا ان
کی سرگرمیوں کو بھی غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش جاری ہے
|