|
کوحمایت برقرار نہ رکھنے پر از سر نو
غور کر سکتی ہے
ادھر دوسری جانب سماجوادی پارٹی سپریمو اور یوپی کے
وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو اوربہوجن سماج پارٹی کی چئیر پرسن وسابق
وزیر اعلی مس مایاوتی نے بھی ایسے ہی اشارے دئیے ہیں کہ اگر حکومت کی
پالیسیوں میں واضح تبدیلی کے اشارے نہیں ملتے تو حکومت کی حمایت سے
اپنے ہاتھ کھینچنے جیسا سخت قدم اٹھانے سے بھی گریز نہیں کیا جائے
گا
سمجھا جاتا ہے کہ مرکز کی من موہن حکومت ان دنوں حریف سیاسی
جماعتوں کے علاوہ حلیف پارٹیوں کے سخت تیور کے باعث شدید دبائو میں
ہے اور حکومت کی بقا کے تعلق سے اندیشوں میں مبتلا ہے
یاد رہے کہ
گزشتہ ماہ کے اواخر میں کانگریس صدر محترمہ سونیا گاندھی نے پارٹی کی
قومی مجلس عاملہ کی ایک غیر معمولی نشست لازمی اشیا کی قیمتوں میں
اضافے کے بعد رائے عامہ میں پائی جانے والی برگشتگی کے تعلق سے حقیقی
صورتحال جاننے کی غرض سے طلب کی تھی جس کے بعد پارٹی نے یہ تاثر دینے
کی کوشش بھی کی تھی کہ حکومت قیمتوں میں اضافے سے پیدا ہونے والے
حالات سے نبٹنے کیلئے سنجیدگی کے ساتھ قدم اٹھائے گی
پارٹی نے اس کے ساتھ ہی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کی بھی میٹنگ طلب کی
ہوئی ہے تاکہ لازمی اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے پیدا ہونے والے تعطل
کو دور کیا جاسکے
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت
کی بعض پالیسیوں کے حوالے سے بائیں بازو کی جماعتوں کی ناراضگی تو
سمجھ میں آتی ہے تاہم ملائم کی برگشتگی ناقابل فہم سی ہے
مبصرین کے
بقول لیفٹ کی دھمکی غریب پر وری کا حصہ ہوسکتی ہے جس کے بوتے پر اب
تک لیفٹ اپنی سیاسی دکان سجاتے رہے ہیں تاہم یو پی کے وزیر اعلی
ملائم سنگھ کی ناراضگی کا اصل محرک آنے والے دنوں میں ہونے والے
ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہیں ،جن میں مبصرین کے بقول ملائم اور
مایاوتی کانگریس کے خلاف ایک مضبوط بنیاد پر سیاسی مخالفت کا ماحول
پیدا کرنے کے منصوبے پر کاربند ہیں
خیال رہے کہ یوپی اسمبلی کے انتخابات آئندہ
برس ہونے ہیں جہاں کانگریس پارٹی ملائم سنگھ کے دور حکمرانی کے مبینہ
سیاہ کارناموں کو طشت از بام کرنے کا ارادہ ظاہر کر چکی ہے جس سے
سمجھا جاتا ہے کہ ملائم حواس باختہ ہیں اور رد عمل کے طور پر مرکزی
حکومت سے حمایت واپس لینے کی دھمکیاں دینے میں مصروف ہیں
منموہن سنگھ حکومت کو ملائم سنگھ کی سماج وادی پارٹی
کے علاوہ مس مایاوتی کی جماعت بہوجن سماج پارٹی اور لیفٹ کی تمام
جماعتوں کی باہری حمایت حاصل ہے اور ان جماعتوں کے ذریعہ حمایت واپس
لینے کی صورت میں حکومت اقلیت میں آجائے گی
بہرحال تجزیہ کاروں کا
کہنا ہے کہ منگل کو بائیں بازو کی جماعتوں کی مشترکہ میٹنگ میں حمایت
واپس لینے کے تعلق سے خیالات کا تبادلہ تو ہوسکتا ہے تاہم لیفٹ
رہنمامنموہن حکومت کو بے اقتدار کرکے وسط مدتی انتخابات کےلئے خود کو
ذمہ دار قرار دینے کی بھول کرنے سے یقیناگریز کریں گے
دیکھنے کی بات یہ ہوگی کہ بائیں بازو کی
مشترکہ نشست میں کیا موقف اختیار کیا جاتا ہے اور ملائم و مایاوتی کی
دھمکیاں کیا گل کھلاتی ہیں
|