|
رہنما اے بالا سنگھم نے آنجہانی راجیو گاندھی کے قتل پر افسوس
ظاہر کرتے ہوئے اس سانحہ کو بد ترین المیہ قرار دیا
ایل ٹی ٹی ای کے سیاسی ونگ کے سربراہ اے بالا سنگھم کا کہنا تھا کہ
”میں اس واقعہ کو ایک بڑا سانحہ قرار دیتا ہوں اور اس تاریخی
المیےکیلئے اظہار معذرت چاہتا ہوں”۔
بھارتی خبری ٹیلی ویزن چینل این ڈی ٹی وی کے ساتھ گفتگو کے دوران
مسٹر سنگھم نے کہا کہ ہندوستان کو چاہئے کہ وہ اس سانحہ عظیم کے تعلق
سے فراخ دلی کے جذبے کا اظہار کرے اور ماضی کے اس واقعے کوفراموش کر
دے
تامل رہنما نے این ڈی ٹی وی سے خاص گفتگو کے دوران نہ صرف یہ کہ پہلی
بار ایل ٹی ٹی اے کی جانب سےہندوستانی ارباب اقتدار سے معذرت چاہی ہے
بلکہ انہوں نے بھارتی عوام سے بھی خندہ پیشانی کے ساتھ اس واقعے کو
بھول جانے کی استدعا کی ہے
خیال رہے کہ آنجہانی راجیو گاندھی کو تمل خود کش حملہ کے دوران 21
مئی 1991 کو اپنی جان تب گنوانی پڑی تھی جب موصوف جنوبی ہند کے
شہرشری پیرمبدور میں ایک عوامی جلسے کو خطاب کرنے کیلئے وہاں پہنچے
تھے
آنجہانی راجیو گاندھی کا قتل سری لنکا میں جاری سول وار میں ہندوستان
کی مخالفت پر بطور احتجاج کیا گیاتھا
اس سے قبل تامل باغیوں نے آنجہانی راجیو گاندھی کے قتل میں
ملوث ہونے کے اعتراف سے گریز کیا ہوا تھا
خود ایل ٹی ٹی ای کے چیف وی پربھا کرن نے سال 2002 میں سری لنکا میں
ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالات کو نظر انداز کرتے ہوئے
کہا تھا کہ دس بارہ برس پرانے اس واقعے کو اٹھانے کا کوئی مطلب نہیں
ہے
انہوں نے اس موضوع پر کسی واضح تبصرے سے بچتے ہوئے کہا تھا کہ یہ
معاملہ اس وقت عدالت میں چارہ جوئی کا منتظر ہے لہذا کوئی رائے زنی
نہیں کی جاسکتی
یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اسی پریس کانفرنس کے دوران بالاسنگھم
صحافیوں سے الجھ پڑے تھے اور اپنی شدید باراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا
تھا کہ آپ ہم پر حاوی ہونے کی کوشش نہ کیجئے
تامل باغیوں کا اظہار تاسف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جبکہ سری
لنکا میں شدت پسندانہ سرگرمیاں اپنے نقطہ عروج پر پہنچی ہوئی ہیں
۔یاد رہے کہ کل ہی تمل باغیوں نے سری لنکا کے نائب فوجی سربراہ کو
ایک فدائین حملہ کے دوران موت کے گھاٹ اتار دیا تھا
اس درمیان بھارتی وزارت خارجہ نے ایل ٹی ٹی ای کے اس معافی نامہ پر
رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے یکلخت مسترد کر دیا ہے
|