|
دارالحکومت
بھوپال میں کئی انتہاپسند ہندووں نے دو مسیحی خواتین کو اجتماعی
عصمت دری کا نشانہ بنایا
مشتعل ہندووں نے بعدازاں مقامی گرجا
گھر پر حملہ کرکے عمارت کو شدید نقصان پہنچایا
مدھیہ پردیش کی
ریاستی مینارٹیز کمشن کی صدر اندھرا اینگار نے بھوپال میں پریس
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ میں بھارتیہ جنتا
پارٹی کے مقامی رہنما اور ریاستی اسمبلی کے رکن دال سنگھ سولانکی
ملوث ہیں
انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے مقامی رہنما کے اکسانے پر
بی جے پی کے مشتعل کارکنوں نے دو مسیحی خواتین کو زیادتی کا
نشانہ بنا ڈالا اور بعدازاں گرجا گھر پر حملہ کر دیا
ان کا کہنا
تھا کہ دونوں خواتین نے 5 حملہ آوروں کی شناخت کر لی ہے تاہم اس
کے باوجود پولیس ان افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے یا ان کے
خلاف کارروائی سے گریزاں ہے
انہوں نے واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا بھی
مطالبہ کیا۔ دریں اثناءبھوپال کی ایک مقامی عدالت نے انتہاپسند
ہندو تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ کے کارکن کے قتل اور پرتشدد
کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں 16 مسیحی شہریوں کو باعزت
بری کر دیا ہے
|