Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Tuesday, 04 July 2006 20:14 (PST)اشاعت

ملائم سنگھ کے سیاسی قلعہ پر’شب خون‘مارنے کی تیاری

شاہد الاسلام

اردو سروس نیٹ نئی دہلی

ملائم سنگھ کے سیاسی قلعہ پر’شب خون‘ کی تیاری

بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ کے سیاسی قلعہ پر شب خون مارنے کی تیاری کے تحت دہلی کی شاہی جامع مسجد کے امام مولانا احمد بخاری کی سربراہی میں کل لکھنئو میں ایک غیر معمولی میٹنگ منعقد ہو رہی ہے

جس میں یو پی یو ڈی ایف کے عہدیداروں کا انتخاب ہونا ہے

امام بخاری ادھر حال کے دنوں میں مسلم سیاسی جماعت کی تشکیل کے حوالے سے سرخیوں میں رہے ہیں کیونکہ گزشتہ دس جون کو موصوف کی ایما پر جامع مسجد دہلی میں ملک کے علما،دانشور اور مسلم عمائدین کی ایک غیر معمولی نشست اسی حوالے سے طلب کی گئی تھی جس میں باضابطہ مسلم سیاسی پارٹی کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کی کوشش کی گئی تھی

سابق مرکزی وزیر سی ایم ابراہیم کی چیئر مین شپ میں ایک سپریم کونسل کی تشکیل کے ساتھ ہی امام بخاری نے یہ اشارہ دے دیا تھا کہ وہ ملک گیر سطح پر ”مسلم سیاسی پارٹی” کی تشکیل کے اپنے نظریے کو عملی شکل دے کر ہی دم لیں گے وہیں امام موصوف نے یو پی کے اسمبلی انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ” یوپی یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ” نامی سیاسی جماعت کی تشکیل کا بھی اعلان کیاتھا

ہرچند کہ یوپی یو ڈی ایف کے قیام کا فیصلہ لے لیا گیاتھا،البتہ اس کے عہدیداروں کے ناموں کے اعلان کے معاملے کو فوری طور سے مئوخر کردیا گیاتھااور اب اس معاملے کو نبٹانے کیلئے امام بخاری لکھنئو کے سفر پر ہیں جہاں کل باضابطہ یو پی یو ڈی ایف کے عہدیداران کے ناموں کا اعلان کر دیا جائے گا

خیال رہے کہ بھارت میں خالص مسلم سیاسی جماعت کو بعض قوتیں فرقہ واریت میں اضافے کا محرک قرار دیتی رہی ہیں۔بالخصوص جمیعت علما ہند کسی بھی مسلم سیاسی جماعت کی تشکیل کی سختی سے مخالفت کر تی رہی ہیں اس کے باوجود امام بخاری نے اپنی اس فکر کو عملی شکل دینے کا حتمی ارادہ ظاہر کیاہوا ہے

یہاں یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ ابھی حال کے دنوں میں مشرقی ریاست آسام میں خالص مسلم سیاسی جماعت کی تشکیل کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے والے بدرالدین اجمل کا تعلق جمیعت علما سے ہی رہا ہے۔بدرالدین اجمل نے ہی حال کے اسمبلی انتخابات کے دوران ” فرنٹ”کی تشکیل کے ذریعہ اول اول شمال مشرق کی  ریاست میں مسلم سیاسی جماعت کا تجربہ کیا تھااور اس الیکشن میں ان کے فرنٹ کو 10 اہم نشستوں سے کامیابی بھی ملی تھی

کہاجاتا ہے کہ جب آسام میں مسلم سیاسی جماعت قسمت آزمارہی تھی تو اس وقت جمیعت علمائے ہند نے خاموشی اختیار کی ہوئی تھی جسے مبصرین بدرالدین اجمل کو جمیعت کی تائید سے عبارت قدم قرار دے رہے تھے لیکن جب شاہی امام نے ملک میں کسی مسلم فرنٹ کی تشکیل کی باتوں کو زور وشور سے اٹھایا اور اسے عملی شکل دینے کی مہم پر موصوف کاربند ہوئے تو اچانک جمیعت نے یہ کہتے ہوئے اپنا پلو جھاڑلیا کہ بھارت کے موجودہ سیاسی حالات میں کسی سیاسی جماعت کی تشکیل کو عملی شکل دینا فرقہ واریت میں اضافے کا محرک ہوگا

جمیعت کا آسام میں بدرالدین اجمل کی جماعت کو خاموشی کے ساتھ حمایت فراہم کرانے کا استدلال یہ تھاکہ بدرالدین اجمل کی تنظیم نے دوران انتخاب کئی غیرمسلم امیدواروں کوبھی قسمت آزمانے کا موقع عنایت کیا تھا۔بہر حال یوپی یوڈی ایف کی تشکیل کے ساتھ ہی ملک کی سیاست کا سمت متعین کرنے والی ریاست اتر پردیش میں وزیر اعلی ملائم سنگھ کی مشکلیں بڑھ گئیں ہیں اور اب امام بخاری کا لکھنئو میں ورود اس بات کا مظہر ہے کہ آنے والے دنوں میں ملائم کے سیاسی قلعہ پر شب خون مارنے کے ارادے سے معرض وجود میں آنے والی یو پی یو ڈی ایف نامی سیاسی جماعت وزیر اعلی ملائم سنگھ کے لئے دشواریوں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے

یاد رہے کہ یوپی اسمبلی کے انتخابات آئندہ برس ہونے والے ہیں ،جن کو ذہن میں رکھتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں نے ابھی سے ہی سیاسی توڑجوڑ کے عمل کا آغاز کر دیا ہے

یہ کہنا تو قبل از وقت ہوگا کہ آسام جیسے کسی تجربے سےیوپی کی سیاست کس کڑوٹ لے گی تاہم مبصرین کہتے ہیں کہ اگر امام بخاری آنے والے دنوں میں یوپی میںسرگرم رہے تو وزیراعلی ملائم سنگھ کےلئے اپنے سیاسی قلعے کو بچا پانا مشکل امر ٹھہرے گا کیونکہ بہرحال امام موصوف کے عقیدتمندوں کی ایک بڑی تعداد یہاں آباد ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل میں مسلم سیاسی پارٹی کوئی کرشمہ دکھاتی ہے یا فتنہ سامانی کا باعث بنتی ہے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات