|
نےغازی آباد کے مقام پر گرفتار کرلیا
خبروں کےمطابق
یہ گرفتاری اس بنا پر عمل میں لائی
گئی کیونکہ سابق
وزیراعظم وشواناتھ
سنگھ نےاس عزم
کااظہارکیاتھا کہ
وہ دادری
پاورپروجیکٹ کیلئےمختص کی
گئی اراضیات کسانوں کو واپس لوٹانے
کیلئے نہ صرف یہ کہ وہ جائے وقوع کا دورہ کریں گے بلکہ اس زمین پر وہ
از خود کاشت کیلئے ہل بھی چلائیں گے
سابق وزیراعظموشواناتھ سنگھ اور فلم اسٹار راج
ببر کسانوں کی اس تحریک کو اخلاقی حمایت دینے میں پیش پیش دکھائی دے
رہے ہیں جو اراضیات کی واپسی کے حوالے سے کسانوں کے ذریعہ چلائی
جارہی ہے
خیال رہے کہ رلائینس پاور پروجیکٹ کے حق میں
زمین کی حصول یابی
کےخلا اترپردیش کےکسانوں
کی ایک بڑی تعدادسراپااحتجاج بنی ہوئی ہے ان
کسانوں نےمستقل اپنی اراضی واپس کئے
جانے کیلئے مظاہرے شروع کر رکھے ہیں
اس احتجاج کے دوران گزشتہ شب کسانوں اور پولس
حکام کے مابین تصادم کےواقعات بھی رونما ہوئے جس میں اطلاع کے مطابق
50 سےزائدکسانزخمیہوگئے”حالانکہ¢ولس نے دوران تصادم لاٹھی چارج کئے
جانے کی بات قبول کی ہے تاہم اگر دوسری جانب کسا نوں کی باتوں پر
بھروسا کیاجائےتوپولس نےمظاہرینپرگولیاں بھی برسائیں
کسان کہتے ہیں کہ پولس گولی باری میں اس کے دو
ساتھی جاں بحق بھی ہوئے ہیں تاہم اعلی پولس اہلکاروں نے اس خبر کی
سختی کے ساتھ تردید کی ہے
پولس در اصل مظاہرے پر آمادہ کسانوں کو اس سے
باز رکھنا چاہتی تھی اور اس کیلئے یوپی پولس نے گرفتاری مہم شروع کر
رکھی تھی تاکہ وی پی سنگھ کے اعلان کے تناظر میں جبریہ زمین کی واپسی
کی تمام تر کوششوں کو ناکام بنایا جاسکے
اطلاع ہے کہ اسی گرفتاری مہم کے دوران جب پولس
نے رات گئے کسانوں کے سرگرم کارکنوں کی رہائش گاہوں پر چھاپے ڈالے تو
کسانون میں اشتعال پیدا ہوگیا اور جو کسان برادری اب تک خاموش تھی اس
نے بھی اس تحریک کی حمایت کرتے ہوئے مظاہرے میں شمولیت اختیار کر لی
ہے
حکام نے حفظ ماتقدم کے طور پر حکم امتناعی جری
کر دی ہے اور علاقے میں سیاست دانوں کے داخلے پر بھی پابندیاں عائد
ہیں
دادری پاور پروجیکٹ کی حمایت و مخالفت کوسیاسی
اعتبار سے خاصی اہمیت حاصل ہے ،کیونکہ جہاں ایک طرف یوپی کے وزیر
اعلیٰ ملائم سنگھ معروف سرمایہ کار انیل امبانی کو دادری
مینپاورپروجیکٹ کی تنصیب کا موقع عنایت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں
وہیں سابق وزیر اعظم مسٹر وی پی سنگھ ،راج ببر اور دیگر کئی اہم
سیاست داں اس کی مخالفت پر آمادہ ہیں۔مبصرین کہتے ہیں کہ حمایت
ومخالفت کے پس پردہ سیاسی اسباب و محرکات کارفرما ہیں |