|
سپریم کورٹ کی تعطیلی بنچ نے اس کے
ساتھ ہی یہ ہدایت بھی جاری کی کہ بہوجن سماج پارٹی سے تعلق رکھنے
والے ان اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دینے کے فیصلے کو چیلنج کرنے
والی عرضی کی سماعت اصل معاملے کے ساتھ ہی کی جائے
جسٹس اے آر لکشمن اور جسٹس التمش کبیر پر مشتمل بنچ نے اپنی ہدایت
میں کہا کہ اسپیکر یو پی مسٹر ماتا پرساد کے فیصلے پر درخواست دہندہ
اگراس جواب پر کچھ کہنا چاہے تووہ سماعت کی اگلی تاریخ پرتحریری بیان
داخل عدالت کرے
خیال رہے کہ اس معاملے پر آئندہ سماعت کیلئے24 جولائی کی تاریخ مقرر
ہے ۔یاد رہے کہ بہوجن سماج پارٹی کے 22 اراکین اسمبلی نے گذشتہ 6
دسمبر 2003 کو سیاسی وفاداری یک لخت تبدیل کرتے ہوئے ملائم سنگھ کی
قیادت والی سماج وادی پارٹی کی رکنیت اختیار کر لی تھی
ان اراکین اسمبلی کی حمایت کے سہارے انہوں نے حکومت سازی کیلئے مطلوب
اعدادی رکاوٹوں کو عبور کیا تھا
اس وقت کے اسمبلی اسپیکر کیسری ناتھ ترپاٹھی نے سیاسی دل بدلی کے اس
عمل کو جائز قرار دے دیا تھا۔مگر بعد کو اس تنازعہ نے طول پکڑلیا
حالیہ اسمبلی کے اسپیکر ماتا پرساد پانڈے نے گذشتہ10 جون کو ان
اراکین کی رکنیت ختم کردی تھی جس کے بعد ایک بار پھر یہ معاملہ
عدالتی چارہ جوئی کا مستحق بن گیا تھا
یہاں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ اہل سیاست کاراتوں رات سابقہ سیاسی
تعلق ختم کرلینا اور نئے تعلقات استوار کر لینا کوئی حیرت کی بات
نہیں ہے۔ہرچند کہ ریاستی مقننہ کے ساتھ ہی ساتھ ہندوستانی ایوان
نمائندگان یعنی ایوان بالا و زیریں کے اراکین کی سیاسی وفاداری تبدیل
کرنے کے عمل کو روکنے کیلئے سخت قانونی رکاوٹیں موجود ہیں باوجود اس
کے یہ مرض تیزی کے ساتھ اپنا دائرہ بڑھاتا رہا ہے
یو پی اسمبلی کے اراکین کا سیاسی جامہ بدل لینا کوئی واحدواقعہ نہیں
ہے بلکہ آئے دن اس قسم کے وقوعے رونما ہوتے رہے ہیں اور اب تک اس کی
روک تھام کی تقریباتمام کوششیں بے اثر ہی رہی ہیں
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کی حیثیت
سے عالمی سطح پر اپنی مخصوص شناخت رکھنے والے ہندوستان کو دنیا بھر
میں شرمسار کرنے والے چند ایک معاملوں میں اہل سیاست کی وفاداری
تبدیل کرنے کا واقعہ بھی سر فہرست بنا ہوا ہے کیونکہ اس سے پائیدار
جمہورت کے استحکام پر حرف آتا رہا ہے اور بے ضابطگی اورلا قانونیت
جیسے حالات دیکھنے کو ملتے رہے ہں
|