|
ریاست میں اس مہلک مرض کے خطرناک پھیلاءکو تباہ کن قرار دیا ہے
سوسائٹی کے تازہ ترین اعداد وشمار میں بہار میں ایڈ مریضوں کی تعداد
میں تقریبا پانچ گناہ اضافہ دکھایاگیا ہے جہاں گزشتہ برسوں کے اعداد
وشمار میں یہ تعداد محض دوسو تھی وہیں 2006ءمیں جاری اعداد و شمار
میں یہ تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے
پٹنہ کے ریجنل ایڈز ٹرینگ سنٹر ایڈ نیٹورک ان انڈیا کے ڈائریکٹر
ڈاکٹر دیواکر تیجسوی کا کہنا ہے کہ بہار اور اترپردیش دو ایسی
ریاستیں ہیں جہاں سے ہزارں غیر تعلیم یافتہ لوگ مزدوری کرنے مہاراشٹر
اور گجرات جاتے ہیں جہاں وہ غیر محفوظ جسمانی تعلقات کے سبب ایڈز کا
شکار ہوجاتے ہیں اور بعد میں یہ بیماری بطور کیریئر اپنے گھروں تک لے
آتے ہیں جس سے یہ بیماری عورتوں میں بھی پھیل جاتی ہے
اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق انڈیا میں ایچ آئی وی پوزیٹو
لوگوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ بتائی گئی ہے
رپورٹ کے مطابق ان مریضوں کی بڑی تعداد مہاراشٹر گجرات اور تامل ناڈو
میں ہے۔ یہ تین ریاستیں ایسی ہیں جہاں اترپردیش اوربہار کے سب سے
زیادہ لوگ بطور مزدور کام کرتے ہیں
ڈاکٹر تیجسوری کہتے ہیں کہ بہار اور اترپردیش کے یہ مزدور معلومات کے
فقدان کے سبب ایچ آئی وی کے سبب سے بڑے کیریئر کا کردار ادا کر رہے
ہیں۔ بہار اسٹیٹ ایڈز کنٹرول سوسائٹی کے مطابق ریاست میں اب تک ستر
افراد ایڈز کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ یہاں تقریبا نو ہزار ایچ
آئی وی پوزیٹو افراد کی سرکاری طورپر نشاندہی کی جا چکی ہے
یہ تعداد گزشتہ اعداد وشمار سے چار گنا سے بھی زیادہ ہے
ان متاثرہ علاقوں میں ایڈز کو ایک نئے نام بمبے والی بیماری سے جانا
جانے لگا ہے
|