|
بھارتی فوج کی گشتی پارٹیوں کی طرف سے پاک فوج کی علاقے
میں موجودگی کا پتہ لگانے میں ناکامی پر را کے ایوی ایشن ریسرچ
سنٹر نے اس کاکھوج لگایا
بھارتی حکومت نے لاہور دہلی بس سروس چلائے جانے کے بعد انٹیلی
جنس ایجنسیوں کو اپنی سرگرمیاں محدود اور کم کرنے کی ہدایت کی
تھی
آوٹ لک انڈیا کو انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ 98 میں آرمی
اورنیوی کے افسران نے وزیر دفاع سے شکایت کی کہ انہیں را کی طرف
سے انٹیلی جنس معلومات نہیں مل رہیں جس کے بعد را کے سربراہ
آروند دیونے میٹنگ بلا کر ہمیں اس حوالے سے آگاہ کیا جس پر ہم نے
انہیں یقین دلایا کہ ان کی آپریشنل ضروریات کو پورا کیا جائے گا
انہوں نے کہاکہ کارگل جنگ را پر انٹیلی جنس معلومات نہ فراہم
کرنے کاالزام عائد کیا گیا ہے تاہم ہم اس وقت اقدامات کرتے ہیں
جب ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہمیں 1998ءسے 7 جولائی 1999ءتک کوئی مشن
نہیں دیا گیا
انہوں نے کہاکہ کارگل میں پاکستانی فوج کے قبضے کی اطلاع ملنے پر
را کے ایوی ایشن سنٹر نے 7 مئی کو اس بات کی تصدیق کے لئے علاقے
میں مشن بھیجا جو خراب موسم کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکا
تاہم اس کے بعد 14 ،16 اور 18 مئی کو بھیجے جانے والے مشن کامیاب
رہے جبکہ 16 مئی کے مشن نے مشکو وادی میں پاکستان کے ایم آئی 17
ہیلی کاپٹر کھڑے دیکھے اور اس بات سے اس وقت کے وزیر داخلہ کے
جار فرنینڈس کو آگاہ کیا گیا جنہیں کارگل پر پاکستانی فوج کے
قبضے کا سن کر صدمہ پہنچا
|