|
ہونے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت نے
حال ہی میں نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی سکیم شروع کی ہے جس کے
تحت روز گار کے متلاشی افراد کو سال میں سو دنوں کے لئے لازمی
روزگار کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے
تاہم اس سکیم سے ریاست گجرات کے ان مسلمانوںکوباہر رکھا گیا ہے
جو 2002 ءکے مسلم کش فسادات سے متاثر ہوگئے تھے
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ریاست گجرات کے درجنوں دیہات جہاں
پر مسلمانوں کی اکثریت ہے بے روزگاری کی شرح انتہائی زیادہ ہے
جبکہ متاثرہ مسلمانوں کو کئی سماجی اور اقتصادی مسائل کا سامنا
ہے
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق گجرات فسادات کے دوران ہزاروں
مسلمان پناہ کےلئے اپنے متعلقہ دیہات سے نکل کر دوسرے علاقوں میں
جابسے ہیں
تاہم شدید مشکلات کے باوجود مرکزی حکومت کی فراہمی روزگار سکیم
سے ان مسلمانوں کو باہر رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے گجرات کے
مسلمان احساس محرومی کا شکار ہیں
|