|
والے معاہدے میں غیر فوجی
استعمال کے لئے ایندھن اور
ٹیکنا لوجی کی منتقلی پر عائد پابندی ختم کی
دی گئی تھی
تاہم پیر کے روز وزارت خارجہ سے جاری
ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ
امریکہ کی طرف سے ملنے والے مسودے
میں یہ شرط شامل کی گئی ہے جس کے تحت
اگر بھارت نے ایٹمی دھماکے کئے تو
امریکہ کے ساتھ اسکا معاہدہ خود بخود
ختم ہوجائے گا
بھارت نے امریکہ کو پہلے ہی
بتا دیا تھا کہ گذ
شتہ ماہ طے پانے والے دوطرفہ معاہدے میں یہ
شرط موجود نہیں تھی
وزارت خارجہ نے بیان میں کہا
ہے کہ ۔ بھارت صرف اسی نکتے کا پابند
ہے جس کا ذکرگذشتہ 18جولائی کے مشترکہ بیان میں
شامل تھا کہ ہم آزمائشی
دھماکوں پر یک طرفہ پابندی پر عمل کرینگے
8 1جولائی کا بیان اس
وقت سامنے آیا جب بھارتی
وزیر اعظم من موہن سنگھ نے
امریکہ کے صدر بش سے گذشتہ برس واشنگٹن
میں ملاقات کی تھی
معاہدہ کو قابل عمل بنانے کےلئے امریکی کانگرس
کی منظوری ضروری ہے اور بھارت کا کہنا ہے کہ اگر کانگرس نے اس شرط کے
تحت معاہدے کی منظوری دے دی تو یہ دونوں
ملکوں کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو متاثر کرےگی
معاہدے کے تحت بھارت امریکہ سے ری
ایکٹروں اور ایندھن سمیت
ایٹمی ٹیکنالوجی کے بدلے اپنے فوجی اورغیر
فوجی ایٹمی پروگراموں کو
علیحدہ کرنا ہوگا اور بعض
ایٹمی تنصیبات بھیبین الاقوامی
معائنہ کاروں کے لئے کھولنی ہوں گی
بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ
امریکہ اس شرط کے تحت بھارت کو
بلاواسطہ راستے سے سی ٹی بی ٹی کی طرف لانا چاہتا ہے
|