Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Friday, 10 November 2006 08:52 (PST)اشاعت

5 اور ملزمان  قصور وار ،65سالہ بزرگ بری

شاھدالاسلام

اردو سروس ڈاٹ نیٹ ، نئی دہلی

گذشتہ ممبئی بم دھماکوں میں دو سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے

1993کے ممبئی بم دھماکوں کے سلسلے میں 5افراد کو قصوروار قرار دیا گیا ہے ایک کو بری کردیا گیا ہے۔ٹاڈا عدالت نے 5لوگوں کو اس بات کا قصوروار پایا ہے کہ انہوں نے1993کے سلسلہ وار بم دھماکوں سے قبل رائے گڑھ ضلع کے دےگھی گاوں میں فرار

 ملزم محمد دوسا کے ملک میں اسمگل کئے ہوئے اسلحہ گولہ بارود کو چھپایا اور پھر اسے کہیںٹھکانے لگا دیاتھا۔تاہم عدالت نے دھماکہ کے65سالہ ملزم سید اسماعیل قادری کو ثبوت کی کمی کی وجہ سے رہا کردیا

ٹاڈا جج بی ڈی کوڈے نے پانچوں ملزمان کو مجرم ٹھہرا کر ان کی ضمانت منسوخ کردی۔ ان مجرموں کے نام ضمیرسید قادری، عبد اللہ سورتی، فقیہ علی صوبے دار اور جناردھن گمباس اور سید ابراہم قادری ہیں ۔پانچوں ملزمان کو ٹاڈا قانون اور کسٹم قانون کی مختلف وضاحت کے تحت مجرم قرار دیا گیا ہے مگر تعزیرات ہند کی دفعہ123عینی سازش میں شریک ہونے کا مجرم ننہیں ٹھہرایا

ان پانچوں نے رائے گڑھ میں ایک ملزم کے آم کے باغوں  میں اسلحہ چھپا دیا تھا انہیں اس لئے بھی قصوار ٹھہرایاگیا ہے کہ انہوں نے بہت سارا اسلحہ اور گولہ بارود رائے گڑھ میں کنگل گاوں کی کھاڑی میں پھیجک دیا تھا۔ عدالت نے ان کے اقبالیہ بیان کی بنیاد پر انہیں قصوروار ٹھہریا ہے

اس کے علاوہ ان کے خلاف کچھ شہادتیں بھی تھیں ۔ سید اسماعیل قادری کو بری کرنے کےلئے عدالت نے کہا ہے کہ ملزم نے کوئی اقبال بیان نہیں دیا صرف ساتھی ملزم نے اس کا نام لیا تھا۔ چونکہ ساتھی ملزم نے اس کا نام ٹھیک طریقہ سے نہیں بتایا نہ ہی یہ بتایا کہ اس نے کیا رول ادا کیا تھا اس لئے اسے رہا کیا جارہا ہے۔ضمیر قادری کا قصور یہ  ہے کہ اس نے12ایک  56 رائفلوں، 19500کارتوس اور36میگزین عبدالرزاق صوبےدار کے آم کے باغوں میں  چھپائے تھے۔ضمیر جرم کے بعد سے فرار تھا مگر اسے1995 میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اسے اس کے اور اس کے ساتھی کے اقبال جرم کی بنیاد پر ٹاڈا قانون کے تحت مجرم قرار دیا گیا ہے حالانکہ وہ بعد میں اپنے اقبالیہ بیان سے مکر گئے تھے

عدالت نے ہتھیاروں  کی برآمدگی کے بارے میں استغاثہ کی شہادت کو بھی قبول کیا تھا۔ملزم عبداللہ سورتی کا جرم یہ  ہے کہ اس نے اسلحہ چھپانے میں  ملزم شبیر قادری کی مدد کی تھی۔ اس کا یہ بھی جرم ہے کہ اس نے اس کے ایک  اور ملزم جے ودے کولی کے ساتھ مل کر یہ سارا اسلحہ کنڈل گاووں کے ساحل پر سمندر میں  پھےنک دیا تھا

 عدالت نے استغاثہ کی اس شہادت کو بھی قبول کرلیا ہے کہ اس نے دھماکہ کے ایک اور ملزم کوایک 56رائفلیں دیگر ملزم فیروز تک پہنچانے میں  مدد دی تھی۔فقیہ علی کو باغ میں اسلحہ چھپانے میں  اور کھاڑی میں پھیکنے کے ضمیر قادری اور عبداللہ سورتی کی مدد کا مجرم قرار دیا گیا  ہے۔جناردھن گمباس ان پانچوں میں  واحد ملزم ہے جسے کسٹم قانون کے135(I) کا ملزم قرار دیا گیا ہے

اسے دیگی میں  اسلحہ اتارے جانے میں ایجنٹ اتم پوار کی مدد کے لئے ٹاڈا کی دفعہ3اور6کا بھی مجرم پایا گیا  ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ شہادتوں سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ ملزم اسلحہ اترنے کے وقت یہ نہیں  معلوم تھا کہ یہ کیا  سامان ہے مگر بعد میں  اسے معلوم ہوگیا تھا کہ اسمگل کیا گیا اسلحہ ہے۔ یہ اسلحہ مزدور ملزم محمد دوسا نے حملہ کے لئے منگوایا تھا

ملزم سید ابراہیم کو ٹاڈا کی دفعہ3اور6کے تحت اسلحہ کو چھپانے اور سمندر میں پھینکنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے اس پر مہاسلا (رائے گڑھ) سے اسلحہ ممبئی پہنچانے کا بھی جرم ثابت ہوا ہے۔ بری کئے گئے ملزم سید اسماعیل پر دھماکوں کی سازش میں شامل ہونے اور اسلحہ چھپانے کے الزامات تھے مگر ثبوت نہ ہونے کی بنا پر اسے چھوڑ دیا گیا ہے۔ دریں اثناء عدالت ان کی سزا کی مدت کے بارے میں بیانات  ریکارڈ نہ کراسکی کیونکہ وقت ختم ہوگیاتھا

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات