|
جسٹس سچر نے وزیر اعظم کو
اپنی رپورٹ پیش کی، اس وقت اس کمیٹی کے اراکین سید حامد، پروفیسر ٹی
اے اومن، مسٹر ایم اے سیٹھ، ڈاکٹر راکیش بسنت، ڈاکٹر اختر مجدد اور
ممبر سکریٹری ڈاکٹر ابوصالح شریف بھی موجود تھے
جسٹس راجندر سچر اعلی اختیارتی
کمیٹی کے آفیسر ان اسپیشل ڈیوٹی ڈاکٹر سیدظفر محمود کے جاری کردہ ایک
پریس بیان کے مطابق اس کمیٹی نے اپنی معیاد کار کے دوران مسلمانوں کی
بھاری آبادی والی ریاستوں جیسے کہ مغربی بنگال، اترپردیش، جموں
وکشمیر، کرالہ، آندھرا پردیش، مہاراشٹر، کرناٹک، مدھےہ پردیش، گجرات،
بہار، آسام، راجستھان اور دہلی کا دورہ کیا
اس کمیٹی نے مقامی نمائندوں، رضاکار
تنظیموں ، دانشوروں، خواتین، نوجوانوں، مختلف پیشوں سے تعلق
رکھنے والے ماہرین کے علاوہ وزرائے اعلی متعدد محکموں کے وزرائ، چیف
سیکرٹریوں ، پرنسپل سکریٹریوں، ڈائرکٹر جنرل آف پولس کے مرتبے کے
افسروں، کمیشنوں کے سربراہوں اور سےاسی پارٹیوں کے لیڈروں سے
ملاقات کی
سچر کمیٹینے مختلف خطوں میں اور
مختلف زبانوں میں ہندوستان کے 103 اخبارات میں اشتہارات
دئے جن کے نتیجے میں ملک بھر سے سینکڑوں جواب ملے اس کمیٹی نے
مرکزی حکومت، تمام ریاستی حکومتوں، مرکزی تحویل کے خطوں کی حکومتوں،
مردم شماری کے رجسٹراروں، الیکشن کمیشنوں ، نئی حد بندی کمیشن ،
یونین پبلک سروس کمیشن ، ریاستی پبلک سروس کمیشن ، نیشنل
سیمپل سروے آرگنائزیشن ، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن ، یونیورسٹیوں ،
انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ، انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹکنالوجی ITTs ،
عدلیہ ، سلامتی تنظیموں وغیرہ سے اطلاعات اور اعدادوشمار حاصل کئے
اس کمیٹی نے دہلی میں پانچ
گول میز کانفرنسیں منعقد کیں ۔ ان کے دوران بہت تفصیلی تبادلہ خیالات
کیا گیا
ایک کانفرنس صرف خواتین
کے لئے مخصوص تھی
کمیٹی نے صلاح کار مقرر کئے
تھے اور اکیڈمک اسٹاف کی خدمات حاصل کی تھیں جو تمام اطلاعات
اور اعدادوشمار وصول کئے گئے ان کا اس کمیٹی نے تجزیہ کیا اور 42
میٹنگوں میں تمام معاملات پر غور کیا گیا |