Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Wednesday, 15 November 2006 17:56 (PST)اشاعت

ٹرین بم دھماکوں کے ثبوت  پاکستان کے حوالے

شاھدالاسلام

اردو سروس ڈاٹ نیٹ ، نئی دہلی

ممبئی ٹرین دھماکوں میں پاکستانی ملوث ہونے کے ثبوت پاکستان کے دو دیئے گئے

ہندوستان اور پاکستان کے خارجہ سیکرٹریوں کی دو دن کی بات چیت بہت مفید، کارآمد اور خوش کن انداز میں اختتام پذیر ہوئی، جس میں دونوں ممالک نے دہشت پسندی سے نپٹنے کے لئے ایڈیشنل سیکرٹری کی سطح پر ایک مشترکہ مےکانزم قائم

کیا اور اس کے علاوہ دوسرے تمام دیرینہ  حل طلب باہمی مسائل کو حل کرنے کے بارے میں  بے تکلفی سے تبادلہ خیالات کیئے ۔دونوں ممالک نے دہشت پسندی کی روک تھام کے لئے جو ہند پاک مشترکہ میکنزم بنایا ہے، اس کے سلسلے میں تین  افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے۔ خارجہ سکریٹری شیوشکنر متین نے بات چیت کے دوران اپنے پاکستانی ہم منصب ریاض محمد خان کو دہلی اور وارانسی کے بم دھماکوں میں  پاکستانی دہشت پسندوں کے ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کئے

ممبئی اور مالےگاووں بم دھماکوں کے بارے میں بات چیت  ہوئی مگر ہندوستان نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیئے کیونکہ ان کیسوں کی تحقیقات ابھی جاری ہے

خارجہ سیکرٹریوں کی یہ بات چیت ، جو کئی مہینے قبل ہونے والی تھی، مگر ممبئی میں ترینوں  کے اندر بموں کے دھماکوں کی وجہ سے معطل کردی گئی تھی، کئی پہلوووں سے اہم اور کارگر ثابت ہوئی کیوں  کہ جموں و کشمیر ، سرکریک ، اعتماد سازی کی تدبیریں ، تجارت اور دیگر امور سمیت تمام امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی

پاکستان کے خارجہ سیکرٹری ریاض  محمد خان نے تسلیم کیا  کہ حکومت ہند نے ان کو دہلی اور وارانسی کے بم دھماکوں کے بارے میں  کچھ دستاویزات پیش کی ہیں انہوں نے کہا کہ اس پر کوئی بھی رائے زنی نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ سارے کاغذات ماہرین کے حوالے کئے جائیں گے، جو اس کی پوری تحقیقات کریں  گے

مسٹر ریاض  محمد خان نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے حوالے سے گنجان آبادی والے علاقوں سے فوج ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی مسئلہ کشمیر کے حل کے سمت ایک  بڑا قدم ثابت ہوگا۔مسٹر خان نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران تمام مذاکرات میں  اصل توجہ کشمیر  کی طرف رہی ہے، جو ایک خوش آئند عمل ہے

اگرچہ پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کچھ دن قبل یہ دعوی کیا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان سیاچن کے مسئلہ کو حل کرنے کے قرےب ہیں لیکن خارجہ سیکرٹریوں  کی بات چیت سے یہ  واضح ہوگیا کہ ابھی بھی اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان  گہرے اختلافات ہیں

مسٹر متین نے یہ  کہہ کر بات ٹالنے کی کوشش کی کہ سیاچن کے مسئلہ پر دفاعی سیکرٹریوں  کی بات چیت جاری رہے گی۔دونوں ممالک اس نتیجے پر نہیں پہنچے کہ سیاچن پر بات چیت کب شروع کریں گے

مسٹر ریاض  احمد خان نے کہا کہ سیاچن پر دونوں طرف خدشات اور اندیشےموجود ہیں لیکن  اس کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اےک تجویز یہ بھی پیش کی کہ برفستان سیاچن کو ’امن کا پہاڑ‘ میں تبدیل کیا جائے، جس کی دونوں ممالک مشترکہ طور پر نگرانی کریں

دونوں ملکوں نے اس پر بھی اتفاق کیا کہ حادثاتی طور پر نیو کیلائی ہتھایروں کے چل جانے کا خطرہ کم سے کم کرنے کے لئے ایک  معاہدہ پر دستخط کئے جائیں
دو دن کی بات چیت کے بعد تین صفحات پر مشتمل ایک  پندرہ نکاتی مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔ بات چیت میں ہندوستان کی طرف سے مسٹر مینن  اور پاکستان کی طرف سے مسٹر ریاض  محمد خان نے حصہ لیا

دونوں فریقوں  نے اس پر اتفاق کیا کہ 22 اور 23 دسمبر کو ماہرین کی ایک میٹینگ میں سرکریک  اور آس پاس کے علاقوں کے مشترکہ سروے میں تال میل کیا جائے گا اور یہ کوشش کی جائے گی کہ ایک دوسرے کے موقف کے ساتھ کوئی تعصب نہ برتا جائے

خارجہ سیکرٹریوں نے اس سے اتفاق کیا  کہ وہ اسلام آباد میں  فروری 2007 میں پھر ملاقات کریں  گے اور جامع مذاکرات کا اگلا راوونڈ شروع کریں  گے۔مسٹر ریاض احمد خان نے اس پر اعتراض کیا  کہ ممبئی میں ٹرینوں کے اندر بم دھماکوں کے بعد پاکستان کی طرف ’انگشت نمائی‘ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دھماکوں کے فوراََ بعد ہی انگشت نمائی شروع ہوئی، جس کو پاکستان نے مسترد کیا

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات