Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Sunday, 26 November 2006 16:22 (PST)اشاعت

حکومت ہند ایسی کسی تجویز سے گریز کرے، بورڈ

شاھدالاسلام

اردو سروس ڈاٹ نیٹ ، نئی دہلی

حکومت مدرسہ بورڈکا قیام چاہتی ہے

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ نے حکومت ہند کی جانب سے مدرسہ بورڈ کے قیام کی تجویز کو دستورہند میں درج اقلیتوں کے مذہبی امور کی آزادی میں دخل اندازی قراردیا ہے۔ اس سلسلے میں عاملہ کی نشست کے دوران ایک متفقہ فیصلے

میں کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مرکزی حکومت کی جانب سے یا اس کے ذریعہ قائم قومی تعلیمی اداروں کی کمیشن کی تجویز کردہ مرکزی مدرسہ بورڈ کے قیام کو دستور ہند میں درج اقلیتوں کے مذہبی معاملات کی آزادی، مذہبی تعلیم و دینی تعلیم کے اداروں کے قیام وانتظام کے حق میں دخل اندازی تصورکرتا ہے اوراس قسم کے کسی بھی ادارے کی تشکیل کو قطعی غیر مناسب و غیر آئینی سمجھتا ہے

اس سلسلے میں بورڈ نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے کسی فیصلے سے باز رہے جس سے مرکزی سطح پر مدرسہ بورڈ کی تشکیل کی عملی راہ ہموار ہورہی ہو۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کی نشست کے دوران یہ طے پایا کہ عاملہ کا ایک نمائندہ وفد عنقریب فروغ انسانی وسائل کے مرکزی وزیر سے ملاقات کرے گا اورآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقف سے وزارت مذکور کو باخبر کرایا جائے گا

۔ 7 ارکان پرمشتمل نمائندہ وفد میں مولانا احمد علی قاسمی، ڈاکٹر سیدقاسم رسول الیاس، ڈاکٹر عبدالوہاب خلجی، مولانا فضل الرحیم مجددی،کمال فاروقی، رحیم الدین انصاری اور علامہ عقیل الغروی کے نام شامل ہیں

خیال رہے کہ مدارس اسلامیہ کو جدید علوم سے بہرہ مند کرانے اور نصاب میں عصری علوم کو شامل کرتے ہوئے اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرانے کے ارادے کے تحت فروغ انسانی وسائل کی وزارت ایک قومی سطح کے مدرسہ بورڈ کے قیام کو حتمی شکل دینے جارہی ہے،جس سے علماء و مشائخ کے مابین اضطراب کی لہریں دیکھنے کو مل رہی ہیں

دریں اثنا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ نے دارالقضاء اور فتوئوں سے متعلق سپریم کورٹ میں زیر بحث پی آئی ایل جو بورڈ کی جانب سے داخل کردہ ہے، اپنے اطمینان کا اظہار کیا جس میں یہ واضح طورپر کہا گیا ہے کہ نظام قضا کا قیام مسلمانوں کی دینی ذمہ داری ہے، دارالقضا نے مسلم معاشرہ کو نہ صرف آئینی زندگی سے متعلق تنازعات میں راحت پہنچائی ہے اورانتشارو بدامنی سے بچایا ہے بلکہ ہزاروں خاندانوں کو آسودگی بھی عطا کی ہے

بورڈ نے بابری مسجد سے متعلق ایک بار پھر اپنے موقف کا اعادہ کیا کہ بابری مسجد انہدام سے متعلق ایف آئی آر198 اور 197 سے متعلق دو الگ الگ عدالتوں میں چل رہے مقدمات کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت(لکھنو) میں یکجاکیا جائے۔ بورڈ نے اس امر پر اظہار حیرت کیا کہ آخر حکومت یوپی بورڈ کے اس مطالبے کو کیوں نظرانداز کررہی ہے جب کہ خود وزیر اعلیٰ بننے سے قبل ملائم سنگھ کابھی موقف یہی تھا اور وہ خود بھی ایسے مطالبے ماضی میں کرتے رہے تھے

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ نے اتفاق رائے سے یہ بھی طے کیا کہ سلامتی کے نام پر اجودھیا کے متنازعہ مقام پر آہنی دیوار کی تعمیر سے متعلق سپریم کورٹ میں داخل کردہ درخواست کی واپسی کے لیے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا۔ بورڈ نے یہ واضح کیا کہ ایسا کرنا نہ صرف عدالت عالیہ کے سابق فیصلوںکو(1994،2002 اور 2003) کے خلاف ہے بلکہ اجودھیا تحویل اراضی ایکٹ 1993کی دفعہ 7(2) کی بھی صریح خلاف ورزی ہے

بورڈ کی میٹنگ میں حکومت یوپی سے مطالبہ کیا گیا کہ اترپردیش حکومت کاشت کی اراضی میںمسلم خواتین کے حق وراثت کو بحال کرے اور زمین داری خاتمہ قانون میں ترمیم کے لیے جلد ازجلد اسمبلی سے منظوری حاصل کی جائے ۔ بورڈ نے واضح لفظوں میں یوپی حکومت کو پیغام دیا کہ وہ اس سلسلے میں ایک طویل مدت سے چلی آرہی نا انصافیوں کو دورکرے۔ عاملہ نے اس سلسلے میں بورڈ کے صدر حضرت مولانا سید رابع حسنی ندوی کو مجاز کیا کہ وہ اس ذیل میں وزیر اعلیٰ سے گفتگو کریں

 مندرجہ بالا امور کے علاوہ بورڈ کے آئندہ اجلاس عام (بمقام چنئی)، تفہیم شریعت کمیٹی اور اصلاح معاشرہ کمیٹی کی پیش رفت کا جائزہ لیاگیا۔ اجلاس کی صدارت حضرت مولانا رابع حسنی ندوی نے کی۔ اس موقع سے حضر ت مولانا رابع حسنی ندوی کے علاوہ بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا سید نظام الدین، اسسٹنٹ جنرل سکریٹری عبدالرحیم قریشی، عبدالستار یوسف شیخ، بورڈ کے سکریٹری حضرت مولانا ولی رحمانی، یوسف حاتم مچھالا ایڈوکیٹ، مولانا سلمان ندوی، مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی، ظفریاب جیلانی، ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس

مولانا احمد علی قاسمی، پروفیسر ریاض عمر، مولانا انیس الرحمن قاسمی، مولانا فضل الرحیم مجددی، مولانا عبدالوہاب خلجی، مولانا حکیم محمد عرفان، علامہ عقیل الغروی، مولانا عمید الزماں کیرانوی، مولانا جلال الدین عمری، مولانا حمید الدین عاقل حسامی، مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی، سید شہاب الدین، کمال فاروقی، رحیم الدین انصاری اورامین عثمانی وغیرہم نے بطور خاص شرکت کی

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات