|
افسر سنیل کمار نے بتایا کہ
یہ آج متعلقہ افسران کو روانہ کردی گئی ہے
افضل کے کشمیر میں رہنے والے
کنبہ نے اکتوبر میں ڈاکٹر کلام سے علیحدہ رحم کی اپیل کی تھی جس پر
ابھی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ محمد افضل کی بیوی بیٹے اور ماں نے
صدر سے ملاقات کرکے اپنی عرضی دی تھی
سپریم کورٹ نے 13 دسمبر 2001 کو
پارلےمنٹ پر بم کے حملے کے جرم میں افضل کو ستمبر میں پھانسی
کی سزا سنائی تھی جس پر وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے
ہوئے تھے
رحم کی درخواست میں افضل گرو
نے کہا ہے میں نے اس سے پہلے رحم کی اپیل کسی لاپرواہی یا غلط
خیال کی بنا پر نہیں کی بلکہ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ
مجھے انصاف پانے کی امید نہیں تھی۔مگر جس طرح کشمیری عوام اور
ہندوستانی لوگوں نے مل کر میرےلئے رحم کا مطالبہ کیا ہے اس سے
حقیقتاََ مجھے امید کی کرن نظر آتی ہے کہ شائد میں زندہ رہوں
اور اپنے بیٹے کو بڑا ہوتے دیکھ سکوں
میری حالت میں کوئی شخص اور
کوئی امید نہیں کرسکتا
درخواست میں یہ بھی کہا گیا
’مجھے یہ بات بہت اچھی لگی کہ صدر میرے کنبہ کے افراد سے اچھی طرح
ملے جس سے مجھے امید ہوتی ہے کہ شاید مجھے انصاف ملے
پارلےمنٹ پر حملے میں 9 افراد
ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے
|